The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: پولیس نے شہری پر خنجر سے حملہ کرنے والے کو حراست میں لینے سے انکار کردیا

لندن : برطانوی پولیس نے نوٹگھم میں اپنے پڑوسی کو خنجر کے ذریعے قتل کرنے کی کوشش کرنے والے ملزم کو یہ کہہ کر حراست میں لینے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی ریاست انگلینڈ کے شہر نوٹنگھم کی مقامی پولیس کو شکایت موصول ہوئی کہ ایک شخص تیز دھار خنجر کے ذریعے اپنے پڑوسی کو قتل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ متاثرہ نے بتایا کہ ’میرا پڑوسی تیز دھار خنجر لے کر گھر سے باہر آیا اور خیخنے لگا کہ تمھیں ذبح کردوں گا‘ جس دھمکیاں واضح طور پر کیمرے میں محفوظ ہوگئی ہیں۔

متاثرہ شخص نیل براؤنلو کا کہنا تھا کہ میری شکایت درج کروانے پر پولیس فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئی لیکن مذکورہ شخص کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی ’جو یقیناً عوام کے ساتھ مذاق ہے‘۔

متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مشتعل شخص سے تیز دھار خنجر تو قبضے میں لے لیا تاہم سیکیورٹی افسر نے یہ کہتے ہوئے کہ’ابھی کچھ نہیں ہوا ہے‘ میرے پڑوسی کو گرفتار ہی نہیں کیا۔

نیل براؤن کا کہنا ہے کہ ’مجھے یقین ہے کہ میرا پڑوسی مجھے قتل کردے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حملہ آور نے خنجر سے مجھ پر وار کیا جس سے میرے چہرے پر زخم آئے، میں نے اسے دھکا دیا اور وہاں سے بھاگ گیا، اگر میں ایسا نہ کرتا تو مجھے قتل کردیتا‘۔

متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ ’یہ کیسا مذاق ہے کہ حکومت کہ رہی ہے ہم چاقو زنی کو برداشت نہیں کریں گے جبکہ نوٹگھم پولیس کو شہریوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے‘ حالانکہ کہ پولیس کے پاس ثبوت موجود تھے۔

میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر واقعے کا جائزہ لیا لیکن وہاں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا جس پر حملہ آور کو حراست میں لیا جاتا البتہ اس کا خنجر ضبط کرلیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں جیسے ہی کوئی ٹھوس ثبوت ملے گا ملزم کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

یاد رہے کہ لندن میں چاقوزنی کی وارداتوں اور فائرنگ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، رواں سال فروری کے مہینے میں 15 افراد کو چاقو کے وار سے قتل کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے دارالحکومت لندن نے جرائم کی شرح میں امریکی شہر نیویارک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، لندن میں رواں سال چاقو زنی کی وارداتوں میں 50 افراد قتل ہوچکے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں