The news is by your side.

Advertisement

کراچی پولیس مقابلہ: تفتیش اہم موڑ پر، 90 فی صد کام مکمل، علی حسنین اور لیلیٰ پروین سے بھی تفتیش ہوگی

کراچی: شہر قائد کے علاقے ڈیفنس میں مبینہ مقابلے میں 5 ملزمان کی اموات اور اس کے بعد پولیس پر لگنے والے الزامات نے معاملے کو الجھا دیا تھا تاہم پولیس کی تفتیشی ٹیم کی تحقیقات اہم موڑ پر آ گئیں، 90 فی صد کام مکمل کر لیا گیا ہے.

تفصیلات کے مطابق تفتیشی حکام نے علی حسنین اور لیلیٰ پروین کو بھی باضابطہ شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ملزمان نے فون پر کس سے کہاں کتنے رابطے کیے، ان کی تصاویر اور مکمل روڈ میپ ڈائی گرام اے آر وائ نیوز پر بھی نشر کیا گیا۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزم عباس سے متعلق علی حسنین اور لیلیٰ پروین سے تفتیش ہوگی، لیلیٰ پروین نے ڈی وی آر کا ریکارڈ ڈیلیٹ ہونے کا بتایا تھا،پولیس نے متعلقہ ڈی وی آر بھی تحویل میں لے لیا، جسے پنجاب فرانزک لیب بھیجا جائے گا۔

ادھر پولیس نے ٹیکنیکل ٹیم کی مدد سے روڈ میپ اور کالنگ ڈائی گرام تیار کر لیا ہے، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ عباس کا 3 ماہ میں کس سے کتنی بار رابطہ رہا، اس کی پوری ہسٹری سامنے آ گئی ہے، ہلاک ملزم عباس نے علی حسنین کو 27 اور لیلیٰ پروین کو 33 فون کالز کیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق ڈرائیور عباس نے 9 فون کالز گینگ لیڈر مصطفیٰ، 22 فون ساتھ ملزم عابد کو کیے، مصطفیٰ اور عابد کی جانب سے دیگر ساتھیوں کے ساتھ سیکڑوں بار رابطہ ہوا، روڈ میپ کے مطابق واقعے کے روز گینگ لیڈر مصطفیٰ، عابد اور ڈرائیور عباس 3 بجے جمالی پل کے قریب تھے، تینوں ملزمان نے 3 بجے کے قریب اچانک اپنے موبائل فون بند کر دیے۔

ڈیفنس مقابلہ: ڈرائیور عباس سے متعلق انکشافات

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر لیاری ایکسپریس وے کا راستہ استعمال کیا گیا تھا، 4 بجے کے بعد مصطفیٰ کا موبائل فون ڈی ایچ اے فیز 4 میں ٹاور پر آیا، پہلے سے تیار پولیس پارٹی لوکیشن پر پہنچی جہاں ملزمان سے مقابلہ ہوا، ہلاک انتہائی مطلوب گینگ لیڈر کا موبائل فون بھی علی حسنین کی گاڑی سے ملا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی کال ریکارڈنگ میں فیز 4 میں بنگلے کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، ملزمان کا مکمل کال ریکارڈ اور مساوی لوکیشن موجود ہے۔

دوسری طرف پولیس نے علی حسنین اور لیلیٰ کے الزامات کا جواب ثبوتوں کے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے، حقائق جاننے کے لیے پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے بھی پولیس سے ملاقات کی، دونوں نے اپنے ڈرائیور عباس کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کی درخواست بھی کی ہے، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل پولیس سرجن کی اجازت کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

ڈیفنس: ڈکیت گروپ کا عبرت ناک انجام

پولیس کا مؤقف ہے کہ انھوں نے مقابلے میں انتہائی مطلوب ملزمان کو ہلاک کیا ہے، تمام ملزمان ساتھ تھے اور ساتھ ہی حرکت کرتے تھے، جس کے ثبوت موجود ہیں، تاہم گینگ میں عباس کے کردار سے متعلق ابھی تفتیش جاری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں