The news is by your side.

Advertisement

وسائل خرچ کر کے بھی چھرا مار تک نہیں پہنچ سکے، پولیس کا اعتراف

کراچی: سندھ پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اعتراف کیا ہے کہ تمام تر وسائل استعمال کرنے کے باوجود چھرا مار تک نہیں پہنچ سکے۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں گلستان جوہر سے گرفتار ہونے والے مبینہ چھرا مار ملزم کے کیس کی سماعت ہوئی، دورانِ سماعت پولیس حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تمام تر وسائل خرچ کرنے کے باوجود چھرا مار شخص کو گرفتار نہ کرسکے۔

تفتشی افسر نے عدالت میں مبینہ ملزم سے تفتیش کے 5 چالان پیش کیے جس میں اُسے کلیئر قرار دیا گیا، پولیس حکام کے مطابق ملزم شہزاد سے 20 روز تک تفتیش کی گئی مگر کوئی سراغ نہ ملا۔

قبل ازیں پولیس حکام نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ ‘بس ملزم کے قریب پہنچ چکے ہیں اور اس ضمن میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس سے بہت اہم انکشافات ہونے کی توقع ہے‘۔

پولیس کی عدم تفتیش پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور پولیس کے تفتیشی چالان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزم شہزاد کی رہائی کا فیصلہ عدالت خود کرے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر، گلشن اقبال سمیت مختلف علاقوں میں چھرا مار نے حملہ کر کے متعدد خواتین کو زخمی کیا تھا، پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے متعدد بار دعویٰ بھی کیے گئے۔

واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے گزشتہ ماہ سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ چھرا مار واقعات کی روشنی میں 38 مشتبہ افراد کو حراست جبکہ 200 سے زائد موبائل نمبرز کی جانچ پڑتال اور 15 ہزار کالز کو ٹریس کیا گیا علاوہ ازیں 3 نفسیاتی اسپتالوں سے مریضوں کی تفصیلات جمع کی گئیں۔

ڈی آئی جی نے بتایا تھا تیز دھار آلے کے 13 واقعات مماثلث رکھتے ہیں، خواتین کو زخمی کرنے کے الزام میں مبینہ شخص وسیم کو گرفتار کیا گیا جس نے 16 مختلف سمز اور موبائل فون استعمال کیے گئے۔

یہ بھی یاد رہے کہ 16 اکتوبر کو پنجاب کے علاقے ساہیوال میں پولیس نے مبینہ چھری مار شخص کو گرفتار کیا تھا جس کے بارے میں امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ وہ کراچی میں خواتین پر حملے کر کے واپس اپنے علاقے آگیا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سمیت پولیس کی ٹیم نے مذکورہ شخص کو تحویل میں لے تفتیش کی جس میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی تھی۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں