اورنگی ٹاؤن، احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے زخمی نوجوان چل بسا
The news is by your side.

Advertisement

اورنگی مظاہرے کا زخمی چل بسا، متحدہ مکینوں کے ساتھ ہے، فیصل سبزواری

کراچی : گذشتہ روز اورنگی ٹاون میں ڈکیتی کی وارداتوں کے خلاف احتجاج کرنے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص عباسی شہید اسپتال میں دم توڑ گیا۔ فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ اورنگی ٹاؤن کےمکین انصاف کیلئے سڑکوں پرنکلےتھے ایم کیوایم مظاہرین کےساتھ کھڑی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق اورنگی ٹاؤن میں اسلام چوک میں بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں اور پولیس کی مبینہ ملی بھگت کے خلاف احتجاج کرنے والے علاقہ مکینوں پر پولیس کی براہراست فائرنگ سے زخمی ہونے والا نوجوان اصغر امام زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج دم توڑ گیا۔

ذرائع کے مطابق اورنگی ٹاؤن نمبر گیارہ کے بلاک جے کا رہائشی اصغر امام پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا جسے شدید زخمی حالت میں عباسی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

اورنگی ٹاؤن کےرہائشیوں کےساتھ  ظلم ہوا، فیصل سبز واری 

اس حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبز واری کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اورنگی ٹاؤن کے مکین انصاف کیلئے سڑکوں پرنکلےتھے ایم کیوایم مظاہرین کےساتھ کھڑی ہے۔

اورنگی ٹاؤن کےرہائشیوں کےساتھ کل ظلم ہوا وہاں چوری اور ڈکیتیاں عروج پرپہنچ چکی ہیں، آئی جی سندھ اورنگی ٹاؤن واقعے کا نوٹس لیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فائرنگ کرنے والوں کےخلاف مقدمہ درج کیا جائےاور نے گناہ گرفتارافراد کو فوری رہا کیا جائے۔

میری گورنر سندھ اور وزیراعلی سندھ سے اپیل ہے کہ جتنے لوگوں کو گرفتار کرکے ان پر پولیس کی جانب سے ناجائز مقدمات عائد کئے گئے ہیں انہیں تمام مقدمات سے بری کرتے ہوئے جلد از جلد رہا کیا جائے اور واقعے میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جائے ۔

واضح رہے اسلام چوک کے رہائشیوں نے بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں کے خلاف تھانے کے باہر احتجاج کر رہے تھے جس کے دوران کشیدگی بڑھ گئی اور مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ بھی کیا گیا جس کے جواب میں پولیس نے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس شیلنگ بھی کی اور بعد ازاں مظاہرین کو گرفتار کرنے کے لیے گھروں پر تابڑ توڑ حملے بھی کیے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں