The news is by your side.

Advertisement

کراچی: سندھ پولیس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ڈیڑھ سالہ جاں بحق

کراچی: شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال یونیورسٹی روڈ پر پولیس کی مبینہ فائرنگ سے 19 ماہ کا کمسن بچہ جاں بحق ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس کا دس روز کے دوران پولیس کی مبینہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد دو تک پہنچ گئی، اب سے کچھ دیر قبل یونیورسٹی روڈ پر 19 ماہ کا کمسن بچہ پولیس کی مبینہ گولی لگنے سے جاں بحق ہوا۔

مقتول بچے کے والد کاشف نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ  یونیورسٹی روڈ پر رکشے میں جاررہے تھے کہ اسی دوران پولیس کو فائرنگ کرتے دیکھا اور کچھ دیر بعد احسن کے جسم سے خون نکلنے لگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ خون بہنے کے بعد ہم اُسی رکشے میں بچے کو لے کر اسپتال پہنچے مگر وہ اُس وقت تک دم توڑ چکا تھا۔ پولیس نے فائرنگ کرنے والے دونوں اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔

مزید پڑھیں: قائد آباد میں پولیس مقابلہ : ملزم اور اہلکار زخمی، فائرنگ کی زد میں آکر بچہ جاں بحق

کاشف کے مطابق بچے کے سینے میں گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی،  واقعے کے بعد سچل پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نجی اسپتال پہنچ گئی۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا نوٹس

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پولیس مقابلے میں بچے کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سے فوری رپورٹ طلب کی۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کے واقعات افسوسناک ہیں جن کی روک تھام بہت ضروری ہے‘۔

دوسری جانب ڈی آئی جی ایسٹ نے پولیس فائرنگ سے بچے کی ہلاکت کے واقعے کا نوٹس لے لیا، اعلامیے کے مطابق فائرنگ میں میں ملوث اہلکاروں کی شناخت کر لی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اہلکاروں کا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے تاکہ شواہد سامنے آئیں، موٹر سائیکل سوار اہلکار کسی کی نشاندہی پر مبینہ ڈاکوؤں کا پیچھا کر رہے تھے۔

قائم مقام ایس ایس پی ملیر

قائم مقام ایس ایس پی ملیر اعظم جمالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’4اہلکاروں کوحراست میں لےلیاگیا، اہلکاروں کےپاس چھوٹےہتھیار تھے، دونوں اہلکارکس کا تعاقب کررہےتھے ابھی اس کی جانچ پڑتال جاری ہے،قانون کےمطابق جوکارروائی ہوگی وہ کی جائے گی‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں