The news is by your side.

کچے کے خطرناک ڈاکوؤں کے خلاف گرینڈ آپریشن میں اعلیٰ حکام کی غیر سنجیدگی کا انکشاف

کراچی: صوبہ سندھ کے کچے کے خطرناک ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے لیے ناقص حکمت عملی سامنے آئی ہے، جس میں اعلیٰ حکام کی غیر سنجیدگی کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے کچے میں خطرناک ڈاکوؤں کے خلاف پولیس گرینڈ آپریشن کے لیے ناقص حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے، خطرناک ڈاکوؤں کے خلاف ایس ایس یو کے کمانڈوز کی بجائے سندھ ریزرو پولیس کو لڑوانے کا روایتی طریقہ اپنا لیا گیا ہے۔

ڈاکوؤں سے لڑوانے کے لیے اسپیشل ٹریننگ حاصل کرنے والے کمانڈوز کی بجائے عام جوانوں کو مقابلے کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ پولیس حکام کی اس غیر سنجیدگی سے بڑے نقصان کا خدشہ ہے، اس سے قبل بھی پولیس کا بہت بڑا جانی نقصان ہو چکا ہے۔

گھوٹکی میں ڈاکوؤں کا پولیس کیمپ پر حملہ، 3 افسران سمیت 7 اہلکار شہید

ذرائع نے بتایا کہ صوبے بھر سے اضافی نفری کو سندھ کے کچے کے علاقوں میں بھیجا جائے گا، کراچی سے سندھ ریزرو کے 125 افسران اور 436 سپاہیوں کو متاثرہ اضلاع میں تعینات کیا جائے گا۔

تمام افسران کا گھوٹکی، کشمور اور شکارپور باقاعدہ تبادلہ کر دیا گیا، بھیجی جانے والی نفری میں ایس آر پی کے ادھیڑ عمر انسپکٹرز، سب انسپکٹرز اور اے ایس آئی شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں