The news is by your side.

Advertisement

قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پس منظر

بچوں سے جنسی زیادتی/ استحصال کا ایک سیکینڈل اس وقت منظر عام پر آیا جب قصور میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں(اگست کے پہلے ہفتے کے دوران) کی خبریں موصول ہوئیں، ان جھڑپوں میں دو درجن سے زائد مظاہرین اور پولیس کے دعوے کے مطابق 28 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، اس احتجاج کی وجہ ےہ تھی کہ پولیس اس سال مئی اور اگست کے مہینوں کے دوران بچوں سے جنسی زیادتی سے متعلق درج کرائی جانے والی ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی۔

پریس اور الیکٹرانک میڈیا نے ایسی سینکڑوں ویڈیوز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے جن میں تقریباً تین سو بچوں سے جنسی زیادتی کے مناظر دکھائے گئے ہیں، متاثرین کے خاندانوں اور مقامی سماجی کارکنوں نے پولیس پر حقائق اور شواہد پر پردہ ڈالنے، ملزمان کے تحفظ کے لئے مقامی سیاستدانوں کے اثرو رسوخ اور ملزمان اور پولیس کی جانب سے مدعین اور گواہوں کو دھمکانے کا الزام عائد کیا ہے۔

گیارہ اگست کو جب ٹیم نے قصور کا دورہ کیا تو اسی دن وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جا چکی تھی۔

میڈیا کی رپورٹس کے بعد ایچ آر سی پی اور اے جی ایچ ایس کے چائلڈ رائٹس ےونٹ نے ایک نو رکنی مشترکہ ٹیم تشکیل دی جس نے 11 اگست 2015ءکو قصور کے گاوں حسین خان والا کا دورہ کیا۔ ٹیم نے متعلقہ تھانے اور گاوں کا دورہ کیا اور مقامی پولیس،کچھ متاثرین کے خاندانوں اور چند دیگر افراد کے انٹرویو کیے جن کا ےہ دعویٰ تھا کہ وہ مقامی سماجی کارکن ہیں اور وہ مدعین کی مدد کررہے ہیں۔

حقائق کی چھان بین

ٹیم نے اپنی فیکٹ فائنڈنگ کا آغازمتعلقہ پولیس اسٹیشن تھانہ گنڈا سنگھ والا سے کیا۔ اس تھانے کے ایس ایچ او کو حال ہی میں اس وقت معطل کردیا گیا تھا جب متاثرہ خاندانوں نے شکایت کی کہ اس نے ملزمان کے ساتھ ساز باز کررکھی تھی اور ان تمام افراد کی ویڈیو بناتا جو جرم سے متعلق معلومات فراہم کرنے یا اپنے بچے یا رشتے دار کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت درج کرانے کے لئے تھانے سے رابطہ کرتے۔ نئے ایس ایچ او کی تقرری پہلے ہی کی جاچکی تھی لیکن اس نے ٹیم سے ملنے سے انکار کردیا۔

اگرچہ تھانے میں موجود میڈیا کے چند افراد نے ایس ایچ او کو تھانے میں دیکھا تھا تاہم تھانے کے عملے نے ٹیم کو بتایا کہ ایس ایچ او فیلڈ ڈیوٹی پر تھا، ڈی پی اوقصور کے دفتر کا دو مرتبہ دورہ کرنے اور ان سے فون پر رابطہ کرنے کی متعدد کوششوں کے باوجود ٹیم کا ان سے رابطہ نہ ہو سکا، بعدازاں جب ٹیم قصور سے واپس آگئی تو ےہ معلوم ہوا کہ وزیراعلیٰ کے حکم پر ڈی پی او کو معطل کردیا گیا تھا۔

تاہم تھانے کے محرر اور نائب محرر ٹیم کو متعلقہ معلومات فراہم کرنے پر رضامند ہوگئے۔ ایچ آر سی پی ان کے تعاون کی قدر کرتا ہے، ٹیم کو بتایا گےا کہ ٹیم کے فیکٹ فائنڈنگ دورے کے دن (11 اگست) تک مختلف متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے 15 ملزمان کے خلاف 8 ایف آئی آر درج کی گئیں۔

ان میں وہ ایف آئی آر بھی شامل تھی جواس سے پہلے درج ہونے والی ایف آئی آروں میں سے ایک کے مدعی نے مجرمانہ دھمکی کی بنا پر ملزمان کے خلاف درج کرائی تھی، پولیس سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق 12 ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا تھا، ایک ملزم تنزیل الرحمان کی قبل ازگرفتاری عبوری ضمانت 11 اگست 2015ءکو منسوخ ہو چکی تھی اور اسے بھی گرفتار کی جاچکا تھا،اور دو ملزمان عرفان احمد اور وسیم سندھی تاحال مفرور تھے۔

تمام ملزمان کا تعلق ایک ہی گاوں سے تھا اور متاثرہ خاندانوں کے قریب ہی رہائش پذیر تھے۔ بہت سے ملزمان ایک دوسرے کے رشتے دار تھے۔گرفتار ملزمان میں مرکزی ملزم حسیم عامراس کا باپ اور دو بھائی شامل تھے۔وہ گرفتار ملزمان جو اب بھی ریمانڈ پر تھے انہیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر شہر کے کسی اور تھانے میں رکھا گےا تھا کےونکہ عوام اب بھی مشتعل تھے، سب سے پہلی ایف آئی آر ایک متاثرہ بچے کے بھائی ملک عثمان نے ےکم جولائی 2015ءکو درج کرائی تھی۔ اسی روز دیگر مدعین کی جانب سے دو مزید ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔ اس کے بعد کی ایف آئی آر 4، 9، اور 13 جولائی 2015ءکو درج کرائی گئیں۔

پولیس کے مطابق گاوں حسین خان والا میں ایک مجرمانہ گروہ کے بارے میں ”خفیہ معلومات“ مئی 2015ءکے آخر میں موصول ہوئیں، یہ گروہ بچوں سے جنسی زیادتی کے بعد ان کی ویڈیو بنا لیتا اور انہیں متاثرین کے خاندانوں کو بلیک میل کرنے اور ان سے رقم بٹورنے کے لئے استعمال کرتا، پولیس کو یہ اطلاع بھی ملی کہ گاوں کے لوگ اس حوالے سے ایک احتجاجی مظاہرہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

پولیس کی ایک پارٹی نے ”خفیہ“ رپورٹ کی تحقیقات کے لئے 26 مئی 2015 ءکو گاوں کا دورہ کیا، پولیس کے اس دورے کے بعد محرر محمد امین کی جانب سے لکھی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گاوں کے جن ”معززین“ سے پوچھ گچھ کی گئی انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ چند خاندانوں نے شکایت کی تھی کہ گاوں میں ایک نامعلوم گروہ بچوں سے جنسی زیادتی کے بعد ان کی ویڈیو کو بلیک میل کرنے اور رقم اینٹھنے کے لئے استعمال کر رہا تھا۔

اسی رپورٹ میں ےہ بھی کہا گےا ہے کہ ان ”معززین“ میں سے ایک مبین احمد ولد معیزالدین نے پولیس کو ےہ بھی بتایا کہ ےہ الزامات محکمہ انہار کی زیر ملکیت اس سرکاری زمین کے مسئلے پر لوگوں کے ایک اجتماع کے دوران سامنے آئے تھے جسے گاوں کے چند افراد سیاسی اثرورسوخ کے ذرےعے حاصل کرنا چاہتے تھے۔

مبین احمد نے دعویٰ کیا کہ وہ چاہتا تھا کہ اس زمین پر ایک ہسپتال اور بچوں کے لئے ایک کرکٹ گراونڈ تعمیر کیا جائے۔ ےہ رپورٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ ویڈیو کلپ کے کوئی شواہد نہیں ملے تھے اور جنسی زیادتی سے متعلق گروہی سرگرمیوں کے الزامات محض افواہوںپر مبنی تھے۔ اگر مستقبل میں ایسی سرگرمی کی کوئی بلاواسطہ شکایت موصول ہوئی تو اس پر مناسب کاروائی کی جائے گی۔

اس رپورٹ کے خالق محرر محمد امین نے ٹیم کو میڈیا سے ملنے والی ان رپورٹس کی صاف تردید کی کہ پولیس کو اسی ملزم کے خلاف جنسی زیادتی کے اےک واقعے کی شکایت بشیراں نامی خاتون کی جانب سے 2013ءمیں موصول ہوئی تھی جس کا بیٹا جنسی زیادتی کا نشانہ بنا تھا۔ پولیس افسر نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ملزم نے پولیس کے ساتھ مل کر بشیراں کو تھانے میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

محرر کو اس بات کا علم تھا کہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جاچکی تھی لیکن وہ تفتیشی افسر، جسے ےہ کیس سونپا گےا تھا، کی جانب سے ہونے والی تحقیقات کی پیش رفت کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہ کرسکا۔ تفتیشی افسر، سب انسپکٹر تھانہ گنڈا سنگھ والا ٹیم سے ملاقات کے لئے موجود نہیں تھا۔ اگرچہ محرر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ قابل اعتراض ویڈیوز کی تعداد سینکڑوں میں تھی تاہم اس نے اس بات کی تردید کی کہ متاثرین کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ عین اسی وقت اس نے پولیس کو درج کرائی گئیں ایف آئی آر کے علاوہ تمام متاثرین کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ ٹیم کی جانب سے قابل اعتراض ویڈیوز کی برآمدگی اور ان کے مزید پھیلاو کو روکنے کے حوالے سے پولیس کے اقدامات سے متعلق ایک سوال پر پولیس افسر نے کہا کہ ان ویڈیوز کے پھیلاو اور دیگر استعمال کو روکنے کے لئے گاوں میں سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے، لیکن اب تک ایسا کوئی مواد برآمد نہیں ہوا۔

گاوں کے دورے کے دوران ٹیم نے چند متاثرین، ان کے اہل خانہ، میڈیا کے افراد اور گاوں کے ایک رہائشی مبین غزنوی سے ملاقات کی جو ایک مقامی سماجی کارکن اور متاثرہ خاندانوں کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ گاوں کے مکین ایچ آر سی پی کو مبین کے رشتے داروں کی زیر ملکیت ایک گھر میں لے گئے جہاں صحافیوں، الیکٹرانک میڈیا، گاوں کے رہائشیوں اور متاثرین اور ان کے خاندانوں سمیت بہت سے لوگ جمع تھے۔ ٹیم نے متعدد متعلقہ افراد سے بات کی۔ تاہم مدعی خاندانوں کی طرف سے مبین احمد نے گفتگو کی۔

مبین غزنوی کے مطابق ویڈیوز کی موجودگی کا انکشاف تقریباً سات سے آٹھ ماہ پہلے ہوا جب متاثرہ بچوں میں سے ایک اپنے موبائل فون میں انڈین فلم ڈاون لوڈ کرانے کے لئے موبائل کی ایک دکان پر گیا اور دکاندار نے اس موبائل کا میمری کارڈ اپنے پاس رکھ لیا۔ گاوں میں ان ویڈیوز کا پھیلاو اس وقت شروع ہوا اور لوگوں کو اس سرگرمی کا پتا چلا۔ یہ تقریباً وہی وقت تھا جب بشیراں بی بی اس ملزم کے بارے میں شکایت درج کرانے کے تھانے گئی جس نے اس کے بیٹے کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ مبین نے اس الزام کی تائید کی کہ تھانہ گنڈا سنگھ والا میں پولیس نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی شکایت درج نہ کی۔

ان ویڈیوز کی اہانت آمیز نوعیت اوردونوں اطراف کے کئی افراد کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے گاوں کے لوگ کئی ماہ تک اس معاملے پر خاموش رہے۔

بہت سے والدین/ خاندان یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے بچوں کے ساتھ کیا ہو رہا تھا۔ بہت سے متاثرہ بچے اپنے خاندانوں کے پیسے اور زیورات چرا رہے تھے تاکہ وہ ان ملزمان کو بھتے کی رقم ادا کرسکیں جو انہیں بلیک میل کررہے تھے اور ویڈیوز کو منظرعام پر لانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ والدین اس چوری کا علم ہونے پر اپنے بچوں کی سرزنش کرتے لیکن چوری کے مقدمات درج نہ کراتے۔ تاہم چند ایسے خاندان بھی تھے جنہوں نے اس سکینڈل کو منظرعام پر آنے سے روکنے کے لئے ملزمان کو رقم کی ادائیگی کی۔

کچھ عرصے کے بعد بشیراں بی بی سمیت چند والدین کو گاوں کے ذرائع سے ان ویڈیوز کا علم ہوا، اور لوگوں کے ایک گروہ نے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم زیادہ تر متاثرین کے خاندان رسوائی کے ڈر سے قانونی کاروائی کرنے یا اپنے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعے کو افشا کرنے پرآمادہ نہیں تھے۔ ابتدا میں گاوں کے عمائدین کے درمیان مشاورت ہوئی اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ قانون کا سہارا لئے بغیر کسی مصالحت پر پہنچا جائے۔ مبین کے مطابق پنچائیت نے اس معاملے پر بحث کی اور، اگر تمام لوگ تعاون کرتے توملزمان اور مدعی خاندانوں کے درمیان تصفیے کے ذریعے یہ مسئلہ گاوں کی سطح پر حل کر لیا جاتا۔ تاہم کوئی سمجھوتا نہ ہوسکا۔ آخرکار بشیراں اس معاملے کو پولیس کے پاس لے گئی۔ اس سے دوسرے لوگوں کے لئے بھی رسمی شکایات درج کرانے کا راستہ کھل گیا۔

باوجود اس کے کہ جولائی 2015ءکے اوائل سے ایف آر درج کرائی جارہی تھیں، پولیس نے زیادہ تر ملزمان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی۔ پولیس نے تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہ کی بلکہ انہوں نے نہ صرف کھلے عام ملزموں کے ساتھ ساز باز کرلی بلکہ متاثرہ خاندانوں اور ان کے طرفداروں کو دھمکانے اور انہیں ہراساں کرنے میں بھی ان کی مدد کی۔ اس کے نتیجے میں مدعی خاندانوں اور گاوں کے دیگر افراد نے اگست میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ہہ مظاہرہ اس وقت تشدد کی شکل اختیار کرگیا جب پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی ہوگئے۔ مظاہرے کے بعد میڈیا کو اس پورے سکینڈل کا علم ہوگیا۔

پولیس نے ہمیشہ ایک جانبدارانہ کردار ادا کیا ہے اورےہ اب بھی شواہد کو چھپا رہی ہے اور ان کی غفلت کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس نے ایک ٹیلی ویژن چینل کا حوالہ دیا جس نے اس ”حویلی“ کے اندر فلم بندی کی تھی جہاں بچوں سے جنسی زیادتی کے چند واقعات پیش آئے تھے۔ اس ویڈیو میں وہ ”ٹیکے اور نشہ آور ادویات“ دکھائی گئی تھیں جنہیں بظاہر ان جرائم کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس نے بتایا کہ پولیس نے اس ثبوت کی حفاظت کرنے کی زحمت نہ کی اور اس جگہ کو ہر ایک کے لئے رسائی کے قابل چھوڑ دیا۔ اس سے پولیس کی غفلت اور ملی بھگت کی نشاندہی ہوتی ہے۔

اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پولیس نے ان 72 ویڈیوز سے زیادہ ویڈیوز برآمد کیں جن کا انہوں نے میڈیا سے ذکر کیا۔ اس کا ےہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے ایک متاثرہ بچے کو پولیس کے سامنے یہ گواہی دیتے سنا تھا کہ مختلف بچوں سے جنسی زیادتی کی تقریباً 400 ویڈیوز موجود ہیں۔

اس نے خود بھی چند ویڈیوز دیکھی ہیں اور ملزمان کی نشاندہی کی ہے۔ اس نے تمام ویڈیو نہیں دیکھیں، اس لئے ےہ ےقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ متاثرہ بچوں کی تعداد کتنی ہے۔ اس نے جن بچوں سے بات کی وہ سب انہی افراد کا نام لیتے ہیں جنہیں درج کرائی گئیں مختلف ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ ڈی پی او اور آر پی او سیاسی اثرو رسوخ کے زیر اثر ہیں اور وہ اسے زمین کا تنازعہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک سرکاری زمین کے استعمال کے حوالے سے اختلافات تو موجود ہیں لیکن اُس کا اِس سکینڈل سے کوئی تعلق نہیں۔ اس جرم کا خاطرخواہ ثبوت موجود ہے۔ اب ےہ پولیس کا کام ہے کہ وہ دیانتداری سے تحقیقات کرے اور ان افراد کی نشاندہی کرے جو مجرم ہیں اور وہ جو متاثرین ہیں۔

ٹیم نے ایک متاثرہ بچے کی ماں اور آٹھ ایف آئی آر میں سے ایک کی مدعی ثریا بی بی سے بھی بات کی۔ انٹرویو کے شروع کے حصے میں اس کا سولہ سالہ بیٹا بھی وہاں موجود رہا۔ تاہم وہاں بہت سے لوگ موجود تھے جس کی وجہ سے وہ متاثرہ بچوں کی خلوت کی ضمانت نہ دے سکی اور اس نے بچوں سے درخواست کی کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔ ٹیم اس بات سے آگاہ تھی کہ وہ اس اذیت ناک تجربے کے بارے میں واقعے کے چشم دید گواہ بچوں کا انٹرویو کرنے کے لئے تیار نہیں تھی لہٰذا اس نے فیکٹ فائنڈنگ کے دوران ان سے سوالات پوچھنے سے اجتناب کیا۔

محترمہ ثریا نے ٹیم کو بتایا کہ حسیم عامر ولد یحییٰ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر 2011ءسے اس کے بیٹے کو جنسی درندگی کا شکار بناتا رہا اس کے علاوہ وہ اس بہیمانہ جرم کی فلم بھی بناتا رہا ہے۔ میرے بیٹے کو جب پہلی بار جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا تو اس وقت اس کی عمر بارہ برس تھی۔ ملزم اور اس کا خاندان اس کے ساتھ والے گھر میں رہتے ہیں، اس کے ہمسائے ہیں۔ گاﺅں میں ان کی شہرت ہمیشہ سے بُری تھی اور حسیم عامر کے والد نے ماضی میں اس کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا اور اس کے ساتھ ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنے کے لئے اسے اغواءبھی کیا تھا۔

اس کے بیٹے کے ساتھ ہونے والے جرم کے بارے میں اس کو چند ماہ قبل اس وقت پتہ چلا تھا جب اس درندگی کاشکار بننے والے ایک دوسرے بچے کی ماں نے اس کو بتایا کہ گاﺅں میں اس حوالے سے جو فلمیں چلائی جارہی تھیں اس میں اس کا بیٹا بھی نظر آتا تھا جس کے ساتھ یہ بہیمانہ فعل دکھایا گیا تھا۔ وہ ایک شخص یاسین صوفی کے گھر گئی جس کے پاس یہ فلمیں تھیں اور ان میں سے کچھ اس نے دیکھیں اور ان میں اپنے بیٹے کو پہچانا۔ ثریا نے بتایا کہ گاﺅں کے مرد یہ فلمیں دیکھتے تھے اور انہیں معلوم تھا کہ گاﺅں میں کیا ہورہا تھایہ سب کچھ اس سے پہلے کا معاملہ ہے جب ابھی عورتوں کے علم میں یہ بات نہیں آئی تھی۔

وہ ان فلموں کی تاریخ کے حوالے سے ٹیم کو کچھ بھی بتانے سے قاصر تھی۔ اس نے بتایا کہ پنچائیت کی مشاورت میں وہ شریک ہوتی رہی تھی۔ لیکن چونکہ معاملہ وہاں پر طے نہ ہو پایا تھا اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ملزم کے خلاف باقاعدہ رپورٹ درج کرائے گی۔ اس نے بشیراں پر پولیس تشدد کے الزامات کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اس کے بعد دوسرے خاندانوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور اپنی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے دباﺅ بڑھایا۔

اس نے مبین غزنوی کے بیان کی عمومی طور پر تصدیق کی اور اس کو شکایت کنندگان کا ترجمان قرار دیا۔ ٹیم کے ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ جن دنوں اس کے بیٹے کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا رہا، ان دنوں کے دوران اس نے اپنے بیٹے میں کوئی مشکوک قسم کی تبدیلی محسوس نہیں کی۔ تاہم اس نے شکایت کی کہ اس عرصے کے دوران اس کی پڑھائی بہت زیادہ متاثر ہوئی تھی۔ اور مجرموں کے گروہ کی سرگرمیوں نے گاﺅں کے بچوں اور نوجوانوں کے رویوں میں کافی بگاڑ پیدا کردیا تھا۔

 اس نے یہ الزام نہیں لگایا کہ اس نے مجرم کو بھتہ دیا یا اس کو رقم ادا کی تاہم اس نے بڑی تلخی کے ساتھ کہا کہ مجرم اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتا تھا۔ خاص طور پر جب اس نے ایف آئی آر درج کرائی تو یحییٰ کا خاندان اس کے ساتھ بہت بُری طرح پیش آیا تھا۔ اس خاندان کے اکثر مردوں کی گرفتاری کے بعد حسیم عامر کی ماں ہماری بے عزتی کرتی رہی، وہ ہمیں گالیاں دیتی اور دھمکیاں دیتی اس کی گالیاں اور دھمکیاں دیوار کے دوسری طرف سے صاف اور واضح سنائی دیتی تھیں۔

ٹیم نے ایک اور ایسے ہی بچے کی ماں سے بھی گفتگو کی۔ اس کی ماں نے ابھی تک ملزم کے خلاف کوئی باقاعدہ شکایت نہیں کی لیکن اس نے اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے والی جنسی درندگی کی ویڈیو دیکھ رکھی تھی۔ اس کا بیٹا اس وقت سترہ، اٹھارہ برس کا ہوچکا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کے بیٹے کے ساتھ یہ درندگی چند برس تک کی جاتی رہی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ کئی ہزار روپے اس کے بیٹے سے وصول کئے گئے۔ ملزم میرے بیٹے کو بلیک میل کرتا اور اس کو دھمکیاں دیتے کہ اگر انہیں رقم نہ دی گئی تو وہ اس کی فلم گھر گھر میں چلائیں گے۔ اس خاتون نے بتایا کہ اس کے بیٹے نے کئی بار گھر سے رقم چرا کر مجرموں کے حوالے کی۔ چوری کا پتہ چلنے پر گھر والے اس کی پٹائی کرتے لیکن یہ نہ جان سکے کہ وہ بار بار چوری کیوں کرتا تھا۔اس سے سوال کیا کہ وہ مجرموں کے خلاف شکایت کیوں نہیں کراتی تو اس نے کہا کہ ان کے حامیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ احتجاج کے طور پر ایف آئی آر نہیں کرائی جائے گی۔ البتہ جب وزیراعلیٰ خود آکر ان سے بات کریں گے اور انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائیں گے تو پھر وہ ایف آئی آر درج کرائیں گے۔

۔1 بچوں کے خلاف جنسی درندگی اور موضع حسین خان والا میں ہونے والے جُرم کا پیمانہ

۔1 اس معاملے کے حوالے سے اسقدر مواد اور معتبر شہادتیں موجود ہیں جن سے نہ صرف یہ واضح ہوتا ہے کہ مجرموں نے بچوں کی بڑی تعداد کے ساتھ جنسی درندگی کا ارتکاب کروانے کا جرم کیا ہے، بلکہ یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ یہ بہیمانہ عمل برسوں سے کم ازکم 2010ءسے جاری ہے۔

۔2 ٹیم نے ایف آئی آر میں درج بچوں کی عمروں اور اس بہیمانہ عمل کا شکار ہونے والے بچوں کو دیکھ کر ان کی عمروں کا جو اندازہ لگایا ہے ان میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ ٹیم کے تخمینہ کے مطابق جب بچوں کے ساتھ درندگی کا یہ کھیل شروع ہوا، اس وقت ان کی عمریں دس سے سولہ برس کے درمیان تھیں۔

۔3 ٹیم کا اندازہ ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی فعل کی کئی سو ویڈیو فلمیں بنائی گئی تھیں۔ تاہم یہ بات یقین سے نہیں کی جاسکتی کہ اس میں کتنے بچے ملوث تھے۔ اس معاملے میں کتنے بچوں کے خلاف جو جرم کیا گیا ہے، وہ تعداد جاننا اتنا اہم نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ ان جنسی فعال میں ایک ہی گاﺅں اور قریب ہمسائیگی میں رہنے والے متعدد بچوں کو ملوث کیا گیا ہے۔

۔4 پولیس کی طرف سے بار بار یہ بات دہرائی گئی ہے کہ یہ بات یقینی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ آیا بچوں کے ساتھ بُرا فعل کیا گیا تھا یا انہوں نے بُرا فعل کیا تھا، ٹیم کے لئے یہ بات کچھ عجیب ہے۔ یہ بات صحیح تسلیم کی جاسکتی ہے کہ جو فعل کیا گیا، اس کے بارے میں صرف ویڈیو فلمیں ہی انکشاف کرسکتی ہیں۔ بہرحال ٹیم اس حقیقت سے باخبر ہے کہ بچوں کی عمروں کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس قسم کے عمل میں ان کی شمولیت کو ان لوگوں کی زیادتی اور زبردستی ہی جانا جائے گا جو اس عمل کی فلمیں بنارہے تھے۔

۔ 5 ٹیم نے ذرائع ابلاغ کی کچھ رپورٹوں اور پولیس کے تبصروں کو بھی جانچا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ یہ سارا سیکنڈل ہی جھوٹ پر مبنی ہو اور گاﺅں کی ایک پارٹی نے گاﺅں ہی کی دوسری پارٹی کے خلاف یہ معاملہ گھڑا ہوا ہو سرکاری اراضی کے ایک ٹکڑے پر قبضہ کرنے کا خواہاں ہے۔ صاف اور واضح شہادت موجود ہے کہ اس گاﺅں کے بچوں کے خلاف ایک بہمیانہ جرم کیا گیا چنانچہ اراضی کا تنازعہ ہی بے معنی ہوجاتا ہے اور ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ واقعہ کی بھرپور تحقیقات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو اپنے مفادات کی خاطر اس سیکنڈل کو استعمال کررہے ہیں۔

تاہم یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ اس سے ظلم کے شکار بچوں کے خاندانوں کی درج کرائی گئی شکایات پر عملدرآمد کیا جائے۔ اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تحقیقات ایماندارانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر ہونی چاہئے۔ چنانچہ اس ساری صورتحال کے پیش نظر ٹیم ضروری نہیں سمجھتی کہ اراضی کے معاملہ کو اس جرم کے ساتھ نتھی کیا جائے۔

۔2 بلیک میلنگ، بھتہ اور دھمکی دینے کے الزامات

۔2 ٹیم نے ظلم کے شکار بچوں اور ان کے خاندانوں میں سے معتبر شہادتیں سنیں اور ٹیم کو یقین ہے کہ یہ جرم اس لئے چھپا رہا کہ بھتہ کی رقم یا تو بچے ادا کرتے رہے یا پھر ان کے خاندان والے مجرموں کو ادا کرتے رہے۔

۔3 رقم حاصل کرنے والے افراد کے نام سامنے نہیں آئے اور نہ ہی کسی ادائیگی کی تفصیلات ٹیم کے سامنے آئیں۔ تاہم ٹیم نے جن لوگوں کو انٹرویوکیا، ان میں یہ نام اگلوائے گئے تھے۔ پولیس کے ساتھ اپنی گفتگو سے ٹیم نے یہ اخذ کیا کہ بھتہ وصول کرے اور بلیک میلنگ کی کچھ شہادتیں موجود تھیں۔

۔3 مجرموں کے خاندان والوں کی طرف سے شکایات کنندگان کی بے عزتی کرنے کے واقعات گاﺅں کے بہت سے افراد نے بیان کئے اور شکایت کنندگان نے اس کی شکایت بار بار پولیس سے کی۔ بے عزت کرنے کی ایک ایف آئی آر مظلوم لڑکے کے چچا نے درج کروائی جس نے مجرموں کے خلاف اپنے بھتیجے پر ہونے والی زیادتی کے حوالے سے ایف آئی آر درج کروائی تھی۔

۔4 ان میں سے اکثر نے پولیس کے خلاف بھی بے عزت کرنے کے الزامات لگائے۔ پولیس کا رویہ اس وقت زیادہ معاندانہ ہوگیا جب یہ سکینڈل عام ہوگیا۔

۔5 متعدد ذرائع نے ٹیم کو بتایا کہ گنڈا سنگھ والا کے ایس ایچ او نے شکایت کنندگان کی ایک موقع پر فلم بنائی جب وہ ملزموں کے خلاف اپنی شکایت درج کروانے آئے تھے اور یہ ویڈیو ملزم کے حوالے کردی تھی۔ ایس ایچ او کو لوگوں کی شکایت پر معطل کردیا گیا تھا۔

۔3 پولیس کی فرائض سے کوتاہی اور ملی بھگت، ساز باز

۔1 گاﺅں میں چلائی جانے والی ویڈیو اور پھیلنے والی افواہوں کو پھیلنے سے کون روک سکتا تھا۔ اس سکنیڈل سے متعلق مقدموں کے اندراج سے مہینوں پہلے ایسا تو بہرحال نہیں تھا کہ پولیس ان ویڈیو فلموں اور افواہوں سے بے خبر تھی۔

۔2 بشیراں والا واقعہ گاﺅں کے بہت سارے لوگوں کے علم میں ہے اور یہ قابل یقین واقعہ ہے۔ یہ واقعہ پولیس کی ملی بھگت، اس کے ساز باز اور دھوکہ دہی اور شکایت کنندگان کی ہونے والے بے عزتی اور ان پر کئے جانے والا تشدد روز مرہ کا معمول ہے جس کا نشانہ تھانوں میں عام لوگ روزانہ بنتے ہیں۔

۔3 سابقہ ایس ایچ او شاہ ولی اللہ کا رویہ اور طرز عمل یقینی طور پر مشکوک تھا۔ ٹیم نے یہ بھی نوٹس کیا کہ پولیس سٹیشن کا عملہ ٹیم سے بات کرتے وقت بہت زیادہ محتاط تھا اور واقعہ کی تفتیش کے بارے میں مکمل اطلاع مہیا کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہا تھا۔

۔4 کیس کے حوالے سے مشکوک ہونے کا سب سے بڑا سبب وہ رپورٹ تھی جس جنسی درندگی کے واقعات کے بارے میں ”خفیہ اطلاع“ کے حوالے سے محرر نے تیار کی تھی لیکن اس کو غیر سنجیدگی کے ساتھ مسترد کردیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کا واحد مقصد یہ لگتا ہے کہ زمین کے تنازع کو ریکارڈ پر لے آیا جائے اور جنسی درندگی کے شکار بچوں اور ان کے خاندانوں کی درج کرائی گئی شکایات کو بے معنی کروایا دیا جائے۔ اس وقت بھی بچوں کی سنائی گئی خوفناک کہانیوں کے اثرات کو کم کرنے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف مبذول کروانے کے لیے یہی طریقہ استعمال کیا جارہا ہے۔

۔5 ٹیم نے نوٹس کیا کہ حقائق معلوم کرنے والے کمیشن کی آمد کے وقت تک پولیس نے موثر تفتیش سے خود کو دور رکھا۔ کسی گواہ پر جرح نہیں کی گئی اور جہاں جہاں بچوں کے ساتھ زیادتیاں کی گئیں ان مقامات سے کوئی شہادتیں اور کوائف اکٹھے نہیں کئے گئے۔ یہاں تک وہ قابل اعتراض ویڈیوز جو گاﺅں میں تقسیم کی جاتی رہی ہیں، انہیں تاحال ضبط تک نہیں کیاگیا۔

۔6 پولیس شہادت حاصل کرنے اور اسے محفوظ نہ کرنے کے عمل کے بارے میں کوئی اطمینان بخش جواز نہیں دے سکی اور نہ ہی ان قابل اعتراض ویڈیوز کی گردش کو روکنے میں ناکام ہونے کی وجہ بتا سکتی ہے۔ ایک ٹی وی چینل کو اس بہیمانہ جرم کے مقام تک رسائی حاصل تھی یعنی یہ چینل ملزموں کی حویلی کے اندر گیا اور اس جگہ کی فلم بنائی۔ یہ پولیس کی انتہائی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کا یہ رویہ غیر سنجیدہ ہے جس سے یقیناً تفتیش متاثر ہوتی ہے۔

۔4 سیاسی اثر ورسوخ اور پولیس کی تفتیش میں مداخلت

۔۱ ٹیم نے متعدد افراد کی شکایت سنی کہ مقامی سیاستدان معاملے کی اہمیت کو کم کرنے کے لئے پولیس پر دباﺅ ڈال رہے ہیں۔ بہرحال یہ شکایت کسی ایک شخصیت کے حوالے سے نہیں تھی۔ ذرائع ابلاغ سے متعلق چند افراد نے کہا کہ ایک مقامی ایم پی اے سے مجرموں کی مدد کر رہا ہے اس لئے کہ مجرموں میں سے چند ایک اس کے عزیز ہیں یا اس کی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٹیم اس حوالے سے کوئی ٹھوس اطلاع حاصل نہیں کرسکی جس سے ٹیم یہ کہہ سکے کہ کسی ایک فرد یا گروپ کو مجرموں کے حق میں سیاسی طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

۔۲ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ پولیس کا رویہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماﺅں کے بیانات نے ایسا تاثر قائم کیا جیسے یہ لوگ اپنے عہد سے مکر گئے ہوں اور وہ ظلم کے شکار بچوں اور ان کے خاندانوں کو انصاف دلانے میں سنجیدہ اور مخلص نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر رانا ثناءاللہ نے پورے واقعہ ہی کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ مفاد پرست افراد نے زمین کے تنازعہ کو یہ رنگ دے کر صورتحال کو بگاڑ دیا ہے۔

۔۳ ٹیم نے میڈیا کے کچھ لوگوں کی آراءکا بھی نوٹس لیا ہے جن کے مطابق ظلم کے شکار خاندانوں کے اردگرد جمع ہونے والوں کی شہرت اور معتبری زیادہ قابل اعتماد نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے لوگوں کو سیاسی وابستگی خصوصاً ایک خاص مذہبی گروہ کے ساتھ وابستگی کا ذکر کیا ہے۔

۔۴ بظاہر یہ واقعہ ایسا تھا کہ اس کو سیاسی رنگ دے کر اچھالا جاسکتا تھا۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کے افراد کی بجائے مظاہروں کے بارے میں فیصلہ سیاسی جماعتوں سے متعلق لوگ کرتے لیکن اپنی شکایات کے حوالے سے معاملات کا جائزہ خود ان لوگوں ہی نے لیا۔ تاہم کچھ فیصلے متاثرہ خاندانوں سے ہٹ کر دوسرے لوگوں نے لئے۔ مثال کے طور پر وزیراعلیٰ کے گاﺅں میں آنے کا مطالبہ متاثرہ خاندانوں نے نہیں کیا تھا بلکہ ان کے نام نہاد حمائتیوں نے کیا تھا۔

۔۵ ٹیم نے سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کے کردار پریشان کن پایا۔ ٹیم نے کچھ سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں اور کارکنوں کو یہاں دیکھا۔ ان سب نے یہاں پر صوبائی حکومت خلاف کافی زہر اگلا۔ انہوں نے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور ان کے استحصال کو روکنے اور بچوں کو تحفظ دینے کی ضرورت پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ان میں سے کوئی ایک ایسا نہیں تھا جس نے اپنی طویل تقریروں میں اس سماجی مسئلہ پر کوئی بات کی ہو اور نہ ہی یہ ذکر کیا کہ وہ اس معاملے میں کوئی اقدام کریں گے۔ ٹیم کے لئے حیرت کی بات یہ تھی کہ ان میں سے کوئی بھی پولیس سے نہیں ملا تاکہ تفتیش کے بارے میں معلومات حاصل کرسکے۔

۔۶ ٹیم ان کے بارے میں یہی کہہ سکتی ہے کہ ان کا مقصد اس صورتحال کو حکومت کے خلاف استعمال کرنا تھا۔ کسی سیاسی رہنما نے اس گاﺅں کا نہ تو دور کیا اور نہ ہی ظلم کے خاندانوں کو انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی۔

۔5 ظلم کے شکار بچوں کی صورتحال

۔۱ ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ جسمانی اور نفسیاتی ردعمل کو نظرانداز کرنے سے متاثرہ بچوں پر ہونے والے اثرات اذیت ناک ہوسکتے ہیں۔

۔۲ ان کے والدین سمیت کسی نے بھی ٹیم کے سامنے اس حوالے سے تشویش کا اظہار نہیں کیا۔

۔۳ ٹیم کے ارکان تجویز کرتے ہیں کہ ان بچوں کو مناسب طبی امداد اور نفسیاتی مشاورت مہیا کی جائے۔ ان بچوں کے گھر والوں کی طرف سے ان کو ایسی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی ان بچوں کے گھر والے ملزموں کے خلاف انصاف حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

۔۴ گاﺅں میں اس مسئلہ پر کوئی گفتگو اور بحث مباحثہ نہیں ہو رہا تھا کہ ایسے جرائم کو روکنے کے لئے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

۔۵ ان بچوں کی بحالی کے لئے نہ کسی این جی او کی خدمات حاصل کی گئیں اور نہ ہی اس قسم کے واقعات میں مدد مہیا کرنے والے ماہرین سے رابطہ قائم کیا گیا۔ اور نہ ہی کوئی ادارہ اپنے طور پر گاﺅں میں آکر یہ خدمت سرانجام دینے کے لئے آگے بڑھا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں