site
stats
پاکستان

بیٹے کے قتل میں پولیس اہلکار ہی ملوث ہیں، والد انتظار احمد

کراچی: شہر قائد کے علاقے ڈیفنس میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے نوجوان انتظار احمد کے والد نے کہا ہے کہ اسپتال میں پولیس اہلکار بیان بدل رہے تھے، ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ بیٹے کے قتل میں پولیس اہلکار ہی ملوث ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈیفنس میں پولیس گردی کا نشانہ بننے والے مقتول انتظار احمد کے والد اشتیاق احمد نے کہا ہے کہ ’سی سی ٹی وی دیکھ کر یقین ہوگیا تھا کہ بیٹے کو باقاعدہ حکمتِ عملی کے بعد قتل کیا گیا ہے کیونکہ حادثے کے بعد گاڑی کے بجائے مخالف سمت میں گئی تھی۔

والد انتظار احمد کا مزید کہنا تھا کہ جائے وقوعہ پر کسی اہلکار نے مجھ سے کوئی مدد نہیں لی اور نہ ہی یا پوچھ گچھ کی، 9 روز تک تفتیشی ٹیم نے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیں: انتظار قتل کیس: گرفتار پولیس اہلکار سی ٹی ڈی کے حوالے

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سی سی ٹی وی فوٹیج دکھانے کے احکامات آئے تو پولیس اہلکاروں نے سارا ریکارڈ نکال کر ختم کرنے کی کوشش کی، مجھے بتایا جائے کہ ایسا کیا معاملہ تھا جو میرے بیٹے کو اس بے دردی سے قتل کیا گیا؟۔

یاد رہے چند روز قبل  کراچی کےعلاقے ڈیفنس میں ایک انتہائی  افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا تھا  کہ جب اینٹی کار لفٹنگ فورس (اے سی ایل سی) کے 4 اہلکاروں نے نامعلوم کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ملائشیا سے آنے والا انتظار نامی نوجوان جاں بحق ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: انتظار قتل کیس: لڑکی کو بھی شاملِ تفتیش کیا جائے، والد کا مطالبہ

واضع رہے واقعے کے رونما ہونےکے بعد  وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا  تھا کہ ’انتظار کے والدین کے غم میں برابر شریک ہیں، اعلیٰ پولیس افسران نے یقین دہانی کروائی ہے کہ گرفتار پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی‘۔

یہ بھی یاد رہے کہ انتظار قتل کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مقتول کے والدین سے ملاقات کی اور قاتلوں کی ہر ممکن گرفتاری کا یقین دلایا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top