site
stats
سندھ

کورنگی فائرنگ: تین اہلکاراوربچہ جاں بحق، ڈی ایس پی،ایس ایچ اومعطل

کراچی: کورنگی میں پولیس موبائل پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں تین پولیس اہلکاراور بچہ جاں بحق ہوگئے، آئی جی سندھ نے واقعے کا نوٹس لے کر رپورٹ طلب کرلی۔ 

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کورنگی میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک اےایس آئی، دو پولیس اہلکاراور ایک راہگیر بچہ جاں بحق ہوگیا، واقعہ کورنگی دارالعلوم کے قریب پیش آیا۔

گشت پرمامور عوامی کالونی تھانے کے پولیس اہلکار موبائل نمبر ایس پی 53 اے میں موجود تھے،  نامعلوم موٹر سائیکلوں پر سوار ملزمان نے موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کردی، فائرنگ کی زد میں آکر ایک راہگیر بچہ بھی جاں بحق ہوا، ملزمان واردات کے بعد باآسانی فرا ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اورزخمیوں کو تشویشناک حالت میں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چاروں افراد جان کی بازی ہار گئے۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے پولیس موبائل پرفائرنگ کا نوٹس لےلیا، آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ایسٹ سے واقعے کی فوری طورپررپورٹ طلب کرلی، انہوں نے ایس ایس پی کو ملزمان کو جلد گرفتارکرنے کی ہدایت کردی۔

پولیس حکام کے مطابق دونوں اہلکاروں کے پاس بلٹ پروف جیکٹس موجود تھیں جو کہ گاڑی میں رکھی ہوئی تھیں تاہم حملے کے وقت وہ اسے پہنے ہوئے نہیں تھے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کی جگہ سے خول قبضے میں کرلیے ہیں، شہید ہونیوالے اہلکاروں کے سر اور سینے میں لگیں جوجان لیوا ثابت ہوئیں۔

جناح اسپتال کے مطابق تینوں اہلکاروں کی شناخت قمرالدین ، امجد اور بابرعلی کے نام سے ہوگئی ہے، ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد 6 تھی جو تین موٹرسائیکلوں پر سوار تھے، حملہ آوروں نے کالے رنگ کے ہیلمٹ پہن رکھے تھے۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج کرکے مزید تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیس موبائل پر فائرنگ سے تین پولیس اہلکاروں اور بچے کے جاں بحق ہونے کے واقعے کا سختی سے نوٹس لے لیا۔

انہوں نے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلیٰ نے پولیس کو ہدایت کی کہ ملزمان کے خلاف ناکہ بندی کرکے فوری ایکشن لے کر گرفتار کیا جائے۔

علاوہ ازیں انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمرخطاب بھی واقعے کے بعد کورنگی پہنچ گئے، صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کاواقعہ شہرمیں حالیہ دہشت گردی کے سلسلےکی کڑی ہے۔

مذکورہ واقعہ کچھ عرصے قبل سائٹ ایریا میں ہونے والے پولیس پارٹی پر حملے سے مماثلت رکھتا ہے، انہوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد 6 تھی، جائے وقوعہ سےنائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے45خول ملے ہیں۔

ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کردیا، غلام قادر تھیبو

ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد وزارت داخلہ کی ہدایت پر ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے میں سائٹ ایریا اور دھوراجی والا گروپ انصار شریعہ ملوث ہے لیکن انصارشریعہ کے علاوہ بھی کوئی تنظیم ملوث ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید اہلکاروں نےایس او پی کو فالو نہیں کیا یہ ان کی غلطی تھی، بلٹ پروف جیکٹس نہیں پہنی تھیں، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ پولیس بہادر ہے، دہشت گردوں کا ہر محاذ پر مقابلہ کرینگے۔

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناءاللہ عباسی نے کہا ہے کہ کورنگی واقعے میں کونسا گروہ ملوث ہے اس حوالے سے ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہاجاسکتا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ماہ رمضان میں سائٹ ایریا میں ہونے والی چار پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ سےمتعلق تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔ کئی لوگ ایسے پکڑے گئے ہیں جن کیخلاف ٹھوس شواہد نہیں، ایسے لوگوں کو فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top