The news is by your side.

کراچی میں پولیس اہلکار قتل، ملزم کے بیرون ملک فرار پر ایف آئی اے کا مؤقف

کراچی: ڈیفنس میں پولیس اہلکار قتل کیس میں ملزم کے بیرون ملک فرار ہونے کے معاملے پر ایف آئی اے کا مؤقف سامنے آگیا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق تحقیقات میں بتایا گیا ایف آئی اے نے بروقت کارروائی عمل میں نہیں لائی جس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

حکام نے کہا کہ ایف آئی اے کو دن 11 بجے ملزم کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالنےکی درخواست موصول ہوئی جب کہ ملزم کی صبح 4 بجکر11 منٹ پر امیگریشن ہو چکی تھی۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ درخواست میں ملزم کے پاکستانی پاسپورٹ کی تفصیلات درج تھیں لیکن ملزم خرم نثار پاکستانی پاسپورٹ پر سفر ہی نہیں کر رہا تھا ریکارڈ کے مطابق ملزم نےسفر کیلئے سویڈش پاسپورٹ استعمال کیا جس کی تفصیلات ایف آئی اےامیگریشن نے پولیس کراچی سےبعدمیں شیئرکیں۔

حکام کے مطابق اس خبر کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ ملزم کی گرفتاری کیلئے بروقت کارروائی نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق ملزم کا سوئیڈش پاسپورٹ2027تک اور پاکستانی پاسپورٹ2026 تک کارآمد ہے۔

اہلکار کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشتگردی، قتل، پولیس مقابلے کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا۔ پولیس نے ملزم کی گاڑی قبضے میں لے لی ہے جبکہ چوکیدار اور دو رشتے داروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ ملزم خرم نثار حال ہی میں سوئیڈن سے تعلیم حاصل کر کے وطن واپس لوٹا تھا۔

واضح رہے کہ شاہین فورس کے شہید پولیس اہلکار عبدالرحمان کے ساتھ ڈیوٹی پر موجود ساتھی اہلکار امین الحق نے واقعہ سے متعلق تفصیلات بیان کی ہیں۔

پولیس اہلکارنے بتایا کہ خیابان شمشیر26اسٹریٹ پر گشت کر رہے تھے، ہمارے پاس ایک کار تیز رفتاری سے گزری، جس میں ایک خاتون چیخ چلا رہی تھی، ساتھی اہلکار عبدالرحمان نے موٹر سائیکل کو کار کے پیچھے لگا دیا۔

امین الحق نے مزید بتایا کہ کار کو عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے قریب روکا اور ساتھی عبدالرحمان گاڑی میں بیٹھ گیا، اسی دوران کار سوار خاتون گاڑی سے اتر کر بھاگ گئی، کار والے نے عبدالرحمان کے ساتھ ہی گاڑی بھگائی اور گلی میں لے گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں