The news is by your side.

ایس ایچ او کا اپنے ہی کانسٹیبل کی بیوی کا جنسی استحصال

سندھ میں ایس ایچ او نے اپنے ہی ماتحت کانسٹیبل کی بیوی کو جنسی استحصال کا نشانہ بنا دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سکھر شہر کے تمانچی تھانے کے ایس ایچ او جاوید میمن کی بربریت اور سفاکیت کی داستان ٹیم ’سرعام‘ نے بے نقاب کردی، خاتون نے اینکر پرسن اقرار الحسن سے مدد کی اپیل کی تھی۔

ملزم ایس ایچ او 13 سال سے خاتون کو جنسی استحصال کا نشانہ بناتا رہا۔

خاتون نے بات ماننے سے انکار کیا تو جاوید میمن نے اسے جان سے مارنے اور جیل میں بند کرنے کی دھمکیاں دیں۔

خفیہ کیمرے کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ’خاتون کہہ رہی ہیں کہ میں ہاتھ جوڑ کر کہتی ہوں کہ میری تصاویر جو آپ کے پاس ہیں وہ ڈیلیٹ کردیں۔‘

ایس ایچ او خاتون کی بات ماننے کی بجائے انہیں ڈراتا اور دھمکاتا رہا۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ’میری زندگی اس نے خراب کردی ہے میری ماں یا باپ کوئی نہیں ہے بس آپ ہی مدد کرسکتے ہیں۔‘

وہ روتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’میرے شوہر نے دس لاکھ کا قرضہ لیا تھا وہاں آدھی تنخواہ چلی جاتی ہے میرے پانچ بچے ہیں مجبوری کی حالت میں نوکری کررہی تھی اس نے وہاں بھی جاکر بھی الٹا سیدھا بولا جس پر میری نوکری چھوٹ گئی۔‘

جب ایس ایچ او سے پوچھا گیا کہ بلیک میلر کے لیے کیا سزا ہے اس پر وہ کہتا ہے کہ بلیک میلر کی ایک ہی سزا موت ہے اس پر اینکر پرسن کہتے ہیں کہ آپ کیوں بلیک میل کررہے ہیں۔

ملزم نے اپنا جرم ماننے سے انکار کردیا بعدازاں اسے خفیہ کیمرے کی ریکارڈنگ دکھائی گئی تو حیران رہ گیا۔

بعدازاں ایس ایچ او کو سزا ہوئی لیکن وہ دن بعد ہی ضمانت پر جیل سے باہر آگیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں