The news is by your side.

Advertisement

پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کا آپریشن، انصارالاسلام کے کارکن گرفتار

پولیس نے پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علماء اسلام کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے کئی رضاکاروں کو گرفتار کر لیا۔

جمعرات کے روز پارلیمنٹ لاجز میں اس وقت غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوئی جب انصارالاسلام کے درجنوں رضاکار احاطے اور لاجز میں گشت کرنے کے ساتھ ساتھ ریہرسل کرتے ہوئے نظر آئے۔

میڈیا پر خبریں نشر ہونے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ اور انتظامیہ حرکت میں آئی، ڈی آئی جی کی ہدایت پر پولیس کی بھاری نفری نے آپریشن کر کے پارلیمنٹ لاجز میں موجود انصارالاسلام کو باہر نکالا گیا۔

اس دوران کارکنوں اور پولیس کے مابین ہاتھاپائی ہوئی جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی، پولیس نے کارکنان کے ساتھ وہاں موجود ارکان اسمبلی اور سینیٹر کامران مرتضیٰ کو حراست میں لینے کے بعد چھوڑ دیا۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں کسی کو ڈنڈا بردار جتھے لانےکی اجازت نہیں ایسا کرنا بدمعاشی ہے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں جن کی ڈیوٹی تھی ان کیخلاف بھی کارروائی ہوگی پارلیمنٹ لاجزمیں ایسے ڈنڈا بردار جتھے برداشت نہیں کیےجائیں گے۔

شیخ رشید نے کہا کہ 2 ایم این ایز کی آڑ میں ڈنڈا بردار جھتہ پارلیمنٹ لاجز میں گھس گیا پولیس فورس پہنچ گئی ہے ڈنڈا بردار جتھہ برداشت نہیں کیا جائے گا اپوزیشن کونظرآگیا ہےعدم اعتمادکی تحریک ناکام ہو گی اپوزیشن تحریک کی ناکامی کی وجہ سےایسی حرکتیں کررہی ہے۔

دوسری جانب میڈیا سے گفتگو میں انصار الاسلام فورس سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پولیس سے غیرمحفوظ سمجھتا ہوں وہ پی ٹی آئی کےکنٹرول میں ہے بدنیتی اور برے ارادے کی تقویت نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی کسی بڑے جلسے میں پولیس پر انحصار نہیں کیا یہ حکومت بدنیتی ہے ہمارے اراکین کیخلاف کچھ کرنے کاارادہ رکھتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاسی ہلچل میں تمام سیاسی جماعتیں رابطے میں ہیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشاورت کا عمل جاری ہے مختلف سوچ کو تقویت دینے کیلئے ملاقاتوں کی ضرورت ہوتی ہے اسی سلسلے میں ایم کیوایم قیادت بھی تشریف لائی اورمشاورت کی گئی۔

انصار الاسلام کے ایک رضاکار نے بتایا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ ایم این ایز کو اغوا کر کے انھیں حبس بے جا میں رکھا جا سکتا ہے۔

رضاکاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت ہے تو امکان ہے کہ ادارے بھی ان کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کریں، اسی خدشے کے پیش نظر ہم ایم این ایز کو تحفظ دینے آئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں