The news is by your side.

Advertisement

نسلہ ٹاور: پولیس کا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں عدالتی حکم پر مسمار کیے جانے والے نسلہ ٹاور کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد، آج سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر پولیس نے چھاپہ مارا اور نسلہ ٹاور کا نقشہ پاس کرنے والے افسران سے پوچھ گچھ کی۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ مارا، چھاپہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن الطاف حسین کی سربراہی میں مارا گیا۔

چھاپے کے دوران پولیس کی نفری تمام داخلی و خارجی راستوں پر موجود رہی جبکہ اس دوران کسی کو بھی عمارت کے اندر آنے یا جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

دفتر کے اندر داخل ہو کر پولیس نے استفسار کیا کہ نسلہ ٹاور کا نقشہ پاس کرنے والے کون کون سے افسران موجود ہیں جس پر ایک افسر نے جواب دیا کہ ہم چیک کرتے ہیں اس وقت کون کون موجود ہے۔

تفتیشی ٹیم سوا گھنٹے تک ڈائریکٹر ایڈمن مشتاق ابراہیم کے دفتر میں موجود رہی، ٹیم کے سامنے 4 افسران کو طلب کیا گیا جن میں فرحان قیصر اور جمیل میمن نامی افسران بھی شامل ہیں۔

تفتیشی ٹیم کو بتایا گیا کہ نسلہ ٹاور کی اصل فائل پہلے ہی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) لے جا چکی ہے، نسلہ ٹاور کی الاٹمنٹ سے تکمیل تک تمام ناموں کی فہرست دی جاچکی ہے۔

افسران نے کہا کہ نسلہ ٹاور کیس سے جس چیز کی ضرورت ہوگی دیں گے۔

افسران تعاون کر رہے ہیں

چھاپے کے بعد ایس ایس پی ایسٹ انویسٹی گیشن الطاف حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایس بی سی اے کے افسران تعاون کر رہے ہیں اور دستاویز فراہم کر رہے ہیں۔

ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا تھا کہ کچھ مزید ڈپارٹمنٹس کے بھی نام سامنے آئے ہیں، ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ باہر پولیس کھڑی تھی کوئی نہیں بھاگا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا صرف آرڈر آیا کوئی دستاویز نہیں آئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز عدالتی احکامات پر نسلہ ٹاور کے معاملے کے ذمے داران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، مقدمے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران، سندھی کو آپریٹو مسلم سوسائٹی کے ذمے داران اور دیگر متعلقہ اداروں کو نامزد کیا گیا۔

نسلہ ٹاور کے ذمے داران کے خلاف مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیشی پولیس نے ریکارڈ جمع کرنا شروع کر دیا۔ پولیس کی جانب سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور سندھی کو آپریٹو مسلم سوسائٹی آفس سے ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں