The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی شہری کو کچلنے والا امریکی سفارتی اہلکار رہا

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اور پاکستانی شہری کو گاڑی کی ٹکر سے زخمی کرنے والے امریکی سفارتی اہلکار کو رہا کردیا گیا۔ پولیس نے زخمی شخص کے خلاف، اور کار سرکار میں مداخلت کے الزام میں سفارتخانے کے چیف سیکیورٹی افسر پر مقدمہ درج کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی شہری کو ٹکر مارنے والے امریکی سفارتی اہلکار کو بچانے کے لیے سفارتی عملہ قانون اور تہذیب بھلا بیٹھا۔

امریکی سیکنڈ سیکریٹری چاڈ ریکس نے گزشتہ رات نزاکت اسلام نامی شہری کو گاڑی سے کچل دیا تھا۔ نزاکت کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

امریکی سفارت کار نے گاڑی سے اترنے سے انکار کیا تو اسے گاڑی سمیت تھانے منتقل کیا گیا جہاں سفارت خانے کا دیگر عملہ بھی پہنچ گیا۔

اسی دوران سفارت خانے کے چیف سیکیورٹی افسر تیمور پیرزادہ پولیس والوں سے جھگڑ پڑے۔ انہوں نے پولیس والوں کو دھکے دیے جبکہ چاڈ ریکس کو تھانے سے فرار کروانے کی کوشش بھی کی جس پر پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

مقدمے میں ملزم کو فرار کروانے اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی وزارت خارجہ کی تحریری درخواست پر پولیس نے امریکی سفارتی اہلکار کو رہا کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلکار کو وزارت خارجہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔


زخمی کے خلاف مقدمہ درج

واقعے کے بعد امریکی سفارتی اہلکار کو تھانے منتقل کیا گیا تاہم تھوڑی دیر بعد زخمی ہونے والے شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق موٹر سائیکل سوار نے غفلت اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کی، موٹر سائیکل سوار اچانک گاڑی کے سامنے آیا جس سے حادثہ ہوا۔

ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ حادثے میں موٹر سائیکل سوار دونوں افراد زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ 8 اپریل کو بھی پیش آچکا ہے جب مبینہ طور پر نشے میں چور امریکی فوجی اتاشی کرنل جوزف نے ٹریفک سگنل کو توڑتے ہوئے شہری عتیق پر گاڑی چڑھا دی۔

واقعے میں عتیق جاں بحق ہوگیا جبکہ اس کے ساتھ موجود اس کا عزیز زخمی ہوا۔

بعد ازاں کرنل جوزف کا معاملہ ہائیکورٹ لے جایا گیا۔ وزارت داخلہ نے کرنل جوزف کا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا جبکہ کیس تاحال جاری ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں