The news is by your side.

Advertisement

ڈی جی رینجرز کی یقین دہانی، حافظ نعیم سمیت جماعت اسلامی کے کارکنان رہا

کراچی: جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمان کو اور کارکنان کو ڈی جی رینجرز کی یقین دہانی کے بعد رہا کردیا گیا، نعیم الرحمان کہتے ہیں ہمارے پرامن احتجاج کو سازش کے تحت خراب کیا گیا، ڈی جی رینجرز نے مسئلہ حل کرانے کی یقین دہانی کروائی۔

تفصیلات کے مطابق لوڈشیڈنگ اور زائد بلنگ پر کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس نے کوشش کی تو جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا جس کے بعد نعیم الرحمان سمیت جماعت اسلامی کے متعدد کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور گھنٹے حراست میں رکھ کر چھوڑدیا گیا۔

رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے احتجاج کررہے تھے، جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے اور ہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی رینجرز نے مسائل حل کرنے اور کارکنوں کی رہائی کی یقین دہانی کروائی حراست میں لیے گئے کارکنان کو ڈی جی رینجرز کی یقین دہانی پر رہا کیا جارہا ہے۔

قبل ازیں جماعت اسلامی نے کراچی الیکٹرک کے زائد بلنگ کے خلاف کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل نرسری اسٹاپ پر احتجاج کا اعلان کیا تھا تاہم انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر پولیس نے مظاہرین کو روک دیا۔ ڈی سی او ایسٹ نے دھرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی قسم کے نقصان کی ذمہ دار جماعت اسلامی ہوگی۔


Police fails to disperse JI protesters by arynews

رہنماؤں کی اپیل کے بعد کارکنان کی بڑی تعداد شاہراہ فیصل پہنچی، مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید تصادم ہوا اور ایک طرف سے پتھراؤ تو دوسری جانب سے شیلنگ کی گئی، شاہراہ فیصل کے دونوں روڈ بند ہونے سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔

بریگیڈ تھانے سے بذریعہ ٹیلی فون اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا، ہمارا دھرنا ہر صورت ہوگا کارکنان نرسری کی طرف چلنا شروع کردیں‘‘۔

ji

انہوں نے اپیل کی کہ کارکنان مشتعل نہ ہوں پرامن دھرنے میں شرکت کریں، ہم کے  الیکٹرک کے مظالم پر کراچی کی آواز بن کر ابھریں گے اگر حکومت کو بات کرنی ہے تو اُس کے لیے بھی تیار ہیں۔

پولیس کی جانب سے روکے جانے پر جماعت اسلامی کے کارکنان مشتعل ہوئے اور شدید نعرے بازی شروع کی، مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی تاہم پولیس نے مشتعل کارکنان کو قابو کر کے پولیس وین میں ڈالا اور امیر جماعت اسلامی کو بھی حراست میں لے لیا۔

hafiz1

پولیس کی جانب سے گرفتاریوں پر ردعمل دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے کارکنان نے سڑک بند کردی جس کے باعث نیو ایم اے جناح روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شاہراہ فیصل پر احتجاج سے شہریوں کی آمدو رفت متاثر ہوتی ہے اس لیے یہاں احتجاج کے خلاف زیروٹالرینس پالیسی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔  پولیس نےادارہ نور حق کے باہر قیدیوں کی دو گاڑیاں بھی پہنچادی ہیں۔

hafiz1

پولیس نے شاہراہ فیصل پر احتجاجی دھرنے کے لیے جماعت اسلامی کی جانب سے لگایا گیا کیمپ بھی اکھاڑ دیا اور وہاں پر موجود دو کارکنان کو گرفتار کرلیا۔

ایک گھنٹے کی مہلت


امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اےآروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی انتظامیہ ناکامی سے دوچار ہے اور بجائے شہریوں کی فلاح کے ہمارے دفاترکو بند کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کتنے لوگوں کو گرفتار کریں گے‘ ہزاروں کارکنان کو گرفتار کرلیں یہ احتجاج پورے ملک میں پھیل جائے گا۔

سراج الحق کا کہنا تھاکہ ہم نے کوئی شیشہ توڑا ‘ نہ کوئی گاڑی جلائی اور نہ ہی ٹریفک کی روانی کو متاثر کیا اس کے باوجود ہمارے کیمپ اکھاڑے گئے اور ہمارے دفتر کا محاصرہ کیا گیا۔

انہوں نے حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ اگر چھ بجے تک ہمارے کارکنان کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ اس کے بعد آگے کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

پورے شہرمیں احتجاج ہوگا


جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الحق نے اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر دہشت گردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک دہشت گردی کے الیکٹرک کراچی کے عوام کے ساتھ کررہی ہے اور ان پولیس ان کی حمایت میں یہاں ہمیں روکنے کے لئے آگئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آج ہمیں احتجاج کرنے سے روکا گیا تو پھر یہ احتجاج شہر کے ہر حصے میں ہوگا اور اسے روکا نہیں جاسکے گا۔

حافظ نعیم الحق نے الزام عائد کیا کہ پولیس جماعت اسلامی کے کارکنان کو گرفتار کررہی ہےاوراحتجاج سے قبل عوام کو ہراساں کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں