The news is by your side.

پولیس نے 3 بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 19 افراد کو جیل بھیج دیا، عدالت برہم

کراچی : پولیس نے 3بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 19 افراد کو جیل بھیج دیا، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جاتے ہو منشیات کے جھوٹے مقدمات درج کردیتے ہو۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے 3بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 19 افراد کو جیل بھیجنے پر ایس ایس پی ٹھٹھہ پر برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے ایس ایس پی عدیل چانڈیو کی سرزنش کرتے ہوئے کہا جہاں جاتےہو منشیات کے جھوٹے مقدمات درج کردیتےہو، بغیر مقدمے کے بچوں اور خاتون کو بھی جیل بھیج دیاگیا۔

جسٹس ذوالفقار سانگی نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیسے ممکن ہے خاندان کے ہر فرد کے پاس سے 900گرام اور ہزار گرام منشیات برآمدہو، جہاں تعینات ہوتے ہو شہریوں کے خلاف منشیات رکھنے کے مقدمات کی بھر مار کردیتے ہو۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایک ہی خاندان کے 10،10افراد کے خلاف منشیات رکھنے کے مقدمات درج کرلئےگئے۔

دوران سماعت خاتون نے ہراساں کرنے والے ایس ایس پی ٹھٹھہ اور دیگر پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کردی، جس پر عدالت نے پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچے کو 11دن تک جیل میں کیسے رکھا گیا؟

عدالت نے کہا کہ پہلے خواتین اور بچوں کو حراست میں لیا گیا بعد میں مقدمہ درج کیا گیا، یہ کیسے ہوسکتا ہے شوہر، بیوی اور خاندان کے ہر فرد سے چرس برآمد ہوئی ہو؟

جسٹس ذوالفقار سانگی نے ریمارکس دیئے کہ وڈیروں کی کتنی غلامی کرو گے؟ غریب لوگوں پر اور کتنا ظلم کرو گے؟ جس پر ایس ایس پی عدیل چانڈیو نے کہا خاندان جرائم پیشہ ہے مختلف مقدمات میں پولیس کومطلوب ہے۔

عدالت نےپولیس درخواست گزار ثمینہ سمیت دیگر کیخلاف شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے دو خواتین سمیت تین افراد کی گمشدگی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت نے ایس ایس پی، محکمہ داخلہ ودیگر سے 11 اکتوبر کو تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں