کوئٹہ: مقتول تاجر محمد ہاشم نورزئی کو 16 کروڑ روپے کے کاروباری تنازع پر قتل کرنے کا انکشاف سامنے آیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے پولیس لائنز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ مقتول تاجر محمد ہاشم نورزئی کو کسی ذاتی دشمنی پر نہیں بلکہ 16 کروڑ روپے کے بھاری کاروباری تنازع پر بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔
ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے تاجر قتل کیس کے مرکزی ملزم سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واقعے کے مرکزی ملزم حکمت اللہ نورزئی کو حراست میں لیا۔
تاہم اس کا بھائی اور شریک ملزم سعد اللہ نورزئی تاحال مفرور ہے، جس کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مزید دو ملزمان کو شہر سے فرار ہوتے ہوئے ناکے بندی کے دوران گرفتار کیا گیا جن کے قبضے سے 4 رائفلیں اور بھاری تعداد میں گولیاں برآمد ہوئیں، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کی برآمدگی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ڈی آئی جی عمران شوکت نے پریس کانفرنس کے دوران شہر کے دیگر تین اہم قتل کیسز کو حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ گوالمنڈی قتل کیس کے مرکزی ملزم سید نعیم شاہ کو آلہ قتل سمیت گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح زرغون آباد قتل کیس کا ملزم شاہ محمد بھی اپنے آلہ قتل سمیت پولیس کی گرفت میں ہے، جبکہ شالکوٹ قتل کیس کی مرکزی کردار نامزد ملزمہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے مفرور ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے والے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔


