The news is by your side.

Advertisement

پولیس نے 1983 میں ہونے والے قتل کا کیس حل کر لیا

اوہایو: امریکی ریاست اوہایو کی پولیس نے ایک ایسے قتل کا کیس حل کر لیا ہے جو 37 سال قبل ہوا تھا۔

تفصیلات کے مطابق 1983 میں اوہایو کی کاؤنٹی شمالی ڈیلاویر میں ساؤتھ گلینا روڈ پر ایک 15 سالہ لڑکے کی کٹی پھٹی لاش ملی تھی، جس کی شناخت جون مونسی کے نام سے ہوئی تھی، تاہم اس کے قاتل کا پتا نہیں چل سکا تھا۔

اوہایو کے حکام نے رواں ہفتے اعلان کیا کہ برسوں پرانے اس قتل کا معمہ حل کر لیا گیا ہے، قاتل کا پتا چل گیا ہے جس کا نام ڈینئل ایلن اینڈرسن ہے، قتل کرنے کے وقت جس کی عمر 30 سال کے لگ بھگ تھی۔

مقامی اخبار میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق ڈیلاویر کاؤنٹی کی پولیس نے معمہ حل کرنے کے لیے ڈی این اے فینوٹائپنگ، جینیٹک جینیالوجی، اور فارنسک جینیالوجیکل ریسرچ کا استعمال کرتے ہوئے جون مونسی کے قاتل کا پتا لگایا۔

اگرچہ مونسی کی کٹی پھٹی لاش شمالی ڈیلاویر کی ایک روڈ پر سے ملی تھی تاہم حکام کو یقین ہے کہ اس کا قتل کولمبس میں کہیں ہوا تھا۔ اس وقت ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے تفتیش کاروں نے اتنا ہی معلوم کیا تھا کہ جائے واردات پر موجود خون کئی افراد کا تھا۔

یہ کیس 2010 میں دوبارہ کھولا گیا، اور 2018 میں ورجینیا کی کمپنی پیرابون نینولیبز نے تین بھائیوں کے خون کے ڈی این اے کا تجزیہ کر کے اصل قاتل کا پتا لگا لیا، قاتل ڈینئل ایلن اینڈرسن کے بارے میں پولیس حکام نے بتایا کہ وہ علاقے کا ایک عادی جرائم پیشہ تھا، اور اس کا کریمنل ریکارڈ بھی موجود ہے۔

اوہایو بیورو آف کریمنل انویسٹی گیشن نے تصدیق کی کہ کرائم سین سے محفوظ کیا گیا ڈی این اے اینڈرسن سے میچ کر گیا ہے، یہ ایک بالکل اندھا کیس تھا لیکن ہم مایوس نہیں ہوئے، آخر کار یہ معمہ اب حل ہو گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں