ڈھاکا (15 جون 2026): بنگلہ دیشی ٹیسٹ کرکٹر نعیم حسن کو پولیس اہلکاروں نے بد سلوکی کی بی سی بی اور کرکٹرز ایسوسی ایشن نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کے ٹیسٹ کرکٹر نعیم حسن کے ساتھ چٹاگانگ میں غیر متوقع واقعہ پیش آیا، جس میں پولیس کی جانب سے بدسلوکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرکٹر کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔
کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی شب اس وقت پیش آیا جب نعیم حسن نعیم حسن ڈھاکا ایئرپورٹ سے چٹاگانگ واپس جا رہے تھے کہ انہیں راستے میں روکا گیا۔
نعیم کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان کے سی این جی رکشے کو لال خان بازار کے علاقے میں روکا اور بغیر کسی واضح وجہ کے سخت رویہ اختیار کیا۔
کرکٹر نے بتایا کہ انہوں نے متعدد بار اپنی شناخت قومی کرکٹر کے طور پر کرائی، لیکن پولیس نے ان کی ایک نہ سنی اور انہیں زبردستی پکڑ کر دوسرے رکشے میں منتقل کرنے کے بعد ان پر لاٹھیوں اور پلاسٹک کے پائپ سے تشدد کیا۔
نعیم حسن کے مطابق تشدد کے بعد پولیس اہلکاروں نے انہیں چھوڑ دیا اور وہ گھر واپس پہنچ گئے۔
مذکورہ واقعے پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے سخت تشویش اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب چٹاگانگ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی انکوائری جاری ہے اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں طریقہ کار کی خلاف ورزی کے اشارے ملے ہیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ نعیم حسن زمبابوے کے ساتھ آئندہ ٹیسٹ سیریز کے لیے بنگلہ دیشی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔
عالمی چیمپئن آسٹریلیا بنگلہ دیش سے وائٹ واش ہونے سے بال بال بچ گیا!


