کراچی (17 مئی 2026): سندھ انسداد پولیو پروگرام کے تحت سخت گرمی میں ٹیمیں پولیو بوسٹر ڈوز لیے عبدالرحمن گوٹھ، مبارک ویلج کی ماہی گیر آبادی میں پہنچ گئیں، جہاں بچوں کو ویکسین دی گئی۔
کراچی میں پولیو بوسٹر ڈوز مہم پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے، 89 یونین کونسلز میں اب تک 989,737 بچوں کو ویکسین دی جا چکی ہے، سخت گرمی میں بھی پولیو ٹیمیں آؤٹ ریچ سائٹس میں بچوں کی کوریج کر رہی ہیں۔
مبارک ویلج میں 700 بچوں کو، جب کہ عبدالرحمن گوٹھ میں 250 بچوں کو بوسٹر ڈوز دینے کا ٹارگٹ مقرر کیا گیا ہے، پیدائش سے 10 سال تک کے بچوں کو ویکسین دی جا رہی ہے، کراچی کی 89 یونین کونسلوں میں 18 لاکھ بچوں کو بوسٹر ڈوز دینے کا ٹارگٹ مقرر کیا گیا ہے۔
عبدالرحمن گوٹھ، مبارک ولیج میں ذکری اور بلوچ آبادی رہائش پذیر ہے، آبادی کا ذریعہ معاش ماہی گیری پر منحصر ہے، جہاں پولیو ورکروں کا انتخاب بھی مقامی آبادی سے کیا گیا ہے، اور خواتین ورکر بڑھ چڑھ کر اس مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔
سندھ انسداد پولیو پروگرام کا کہنا ہے کہ تعلیم یافتہ ورکر مقامی آبادی کے تحفظات دور کرنے میں اہم کردار کر رہی ہیں، اور ان کی مدد سے پولیو بوسٹر ڈوز مہم کامیابی سے جاری ہے، والدین کا تعاون اس مہم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
پروگرام کے مطابق پولیو ٹیمیں اسکولوں، محلوں اور کمیونٹی مقامات پر بچوں کو ویکسین دے رہی ہیں، اسٹریٹ چلڈرن، محروم آبادی تک بھی پولیو ٹیموں کی رسائی کا سلسلہ جاری ہے، ہر اہل بچے کو پولیو سے تحفظ فراہم کرنا ترجیح ہے، یہ مہم ہائی رسک علاقوں میں بچوں کی قوتِ مدافعت مضبوط بنانے کے لیے جاری ہے، گنجان آبادی، نقل و حرکت کراچی کو ہائی رسک بناتی ہے۔
پروگرام کا کہنا ہے کہ پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن اور ماہرینِ اطفال نے بوسٹر ڈوز کی حمایت کی ہے، اور یہ عالمی ادارۂ صحت کی سفارش کردہ ہے، لاہور میں بھی بچوں کو بوسٹر ڈوز دی جا چکی ہے، اس لیے والدین افواہوں اور غلط معلومات کو مسترد کر دیں، اور مستند طبی مشوروں اور سائنسی حقائق پر اعتماد کیا جائے۔
سندھ انسداد پولیو پروگرام کے مطابق درست معلومات کا فروغ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ہر ویکسین شدہ بچہ پاکستان کو پولیو فری مستقبل کے قریب لا رہا ہے۔ پروگرام کے مطابق کراچی کی 89 یونین کونسلز میں مہم 24 مئی تک جاری رہے گی۔
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں


