site
stats
بلوچستان

بلوچستان کے 10 اضلاع کی 137 یوسیز میں انسداد پولیو مہم کا آغاز

کوئٹہ : بلوچستان کے 10 اضلاع کی 137 یوسیز میں انسداد پولیس مہم کا آغاز کل سے کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق انسداد پولیس مہم کے دوران 5 لاکھ، 61 ہزار 981 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، پولیو مہم کے دوران 1678 موبائل ، 122 فکسڈ ٹیمیں اور 38 ٹرانزٹ ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔

ڈاکٹر سیف الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’پولیو مہم کے دوران ٹرانزٹ پوائنٹس پر آنے والی ہر گاڑی کو کو چیک کر کے 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ ’’ٹرانزٹ پوائنٹ پر پولیو چیک پوسٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں پولیو مہم کے حوالے سے بینربھی آویزاں کیا جائے گا تاکہ اس پیغام کو بچوں کے والدین تک پہنچایا جاسکے، ڈاکٹر سیف الرحمن نے والدین سے اپیل کی ہے کہ ’’وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائیں تاکہ مہلک بیماری سے بچنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اس بیماری سے نجات حاصل کی جاسکے۔

ڈاکٹر سیف نے سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے آگاہ کیا کہ ’’گھر وں پر جاکر پولیو کے قطرے پلانے والی رضاکاروں کو ٹیموں کی صورت میں ہر علاقے میں بھیجا جائے گا، اس دوران اُن کے ساتھ پولیس اہلکار ڈیوٹی پر مامور رہیں گے، جبکہ ٹرانزٹ پوائنٹس اور فکسڈ مقامات پر بھی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔

پڑھیں : قبائلی علاقے میں پولیو کیسز کی شرح صفرپرپہنچ گئی

 واضح رہے مہلک بیماری پولیو سے بچاؤ اور اس حوالے سے آگاہی دینے کے لیے جاپان اور پاکستانی حکومت کے دوران رواں سال مئی میں 59 ملین ڈالرز کے آسان قرضہ فراہم کرنے کی یاداشت پر دستخط کیے گیے تھے ، جبکہ آصفہ بھٹو زرداری نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ پاکستان کو پولیو فری ملک اور صحت مند قوم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیں : انسداد پولیو کے لیے جاپان کا پاکستان کو قرض

 عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جون 2016 میں جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پولیو کی شرح صفر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دنیا میں ایشیاء کے دو ممالک ایسے ہیں جن میں پولیو کا مرض تاحال موجود ہے۔

یاد رہے پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد ممالک جہاں پولیو کا مرض تاحال موجود ہے جبکہ 2014 میں پڑوسی ملک بھارت کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو فری ملک قرار دیا جاچکا ہے، جبکہ پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی تعداد 306 تک جاپہنچی ہے جو گزشتہ 14 سال کی بلند ترین شرح ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پولیو کا شکار پاکستانی نوجوان باڈی بلڈنگ کا ورلڈ چمپین

 عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو فری ممالک کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اُن ممالک پر سفری اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے پابندی عائد کریں کہ جن ممالک میں پولیو کے مرض پر قابو نہیں پایا جاسکاہے، ایسی صورتحال کے باعث پاکستان کو مستقبل میں خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top