site
stats
صحت

کراچی: 80 ہزار سے زائد بچے پولیو ویکسین پینے سے محروم

کراچی: رواں برس سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 80 ہزار سے زائد بچوں کو ان کے والدین نے پولیو ویکسین پلانے سے انکار کردیا جس سے وہ ویکسین لینے سے محروم رہ گئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں انسداد پولیو سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کی۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ سندھ کو پولیو سے پاک اور آئندہ نسل کو اپاہج ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔ اس لیے جب بھی انسداد پولیو مہم چلتی ہے تو وہ پولیو ورکرز کی سیکیورٹی اور مانیٹرنگ خود کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: قبائلی علاقے میں پولیو کیسز کی شرح صفر

بریفنگ کے دوران وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ رواں سال سندھ میں کوئی نیا پولیو کیس سامنے نہیں آیا۔

رواں برس کراچی میں 80 ہزار سے زائد بچے پولیو ویکسین لینے سے محروم رہ گئے جس کا سبب ان کے والدین کا پولیو ویکسین پلوانے کا انکار تھا۔ مچھر کالونی، سہراب گوٹھ میں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا جو والدین اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکاری ہیں ان کی کونسلنگ کا کوئی پروگرام بنایا جائے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور پولیو پروگرام مل کر کراچی سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے۔

مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر صحت، محکمہ صحت اور پولیو پر ٹاسک فورس کو وائرس سرویلنس اور ہائی رسک یونین کونسلز میں پولیو کے کام کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: پاکستانی پولیو ورکرز کے لیے بین الاقوامی اعزاز

اجلاس میں آصفہ بھٹو، عذرا پیچوہو، وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو، میئر کراچی، آئی جی سندھ اور سیکریٹری ہیلتھ سمیت دیگرافسران بھی شریک تھے۔

یاد رہے کہ سنہ 2014 میں پاکستان میں پولیو وائرس کے 306 کیسز سامنے آئے تھے۔ یہ شرح پچھلے 14 سال کی بلند ترین شرح تھی۔

سنہ 2015 میں پولیو کیسز کی تعداد گھٹ کر 54 اور سنہ 2016 میں 20 ہوگئی۔

رواں برس اب تک صرف 2 پولیو کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 1 پنجاب اور ایک گلگت بلتستان میں دیکھا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top