بلوچستان میں پولیو ویکسین کے قطرے پلانے سے انکاری والدین پولیو کے خاتمے میں رکاوٹ اور چیلنج سمجھے جاتے ہیں، تاہم کوئٹہ کے 300 گھروں پر مشتمل علاقے کلی شیخان میں معتبرین کے کردار ادا کرنے سے علاقے میں کوئی انکاری والدین نہیں بچے، ماحول سے وائرس ختم ہو گیا ہے اور کوئی کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا۔
حاجی خان محمد بڑیچ کوئٹہ کے گنجان آباد کلی شیخان کے سیاسی و قبائلی معتبرین میں سے ایک ہیں۔ علاقے کے عمومی مسائل کے علاوہ پولیو کے خاتمے میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ جو بھی اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کرے وہ ان والدین کو گھر بلاکر یا خود ان کے پاس جا کر انھیں منا لیتے ہیں۔
پولیو حکام کے مطابق کلی شیخان میں حاجی خان محمد بڑیچ نے کم و بیش 50 انکاری خاندانوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے پر راضی کیا ہے۔ اب اس علاقے میں سو فی صد ویکسنیشن ہوتی ہے اور ماحول میں وائرس بھی موجود نہیں رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو سے محروم رہ جانے والا ایک بچہ بھی خود پولیو وائرس کا شکار ہونے کے علاوہ وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ اب بھی صوبے میں قطروں سے محروم بچوں کو تعداد 3000 ہے۔ جس کے تدارک کے لیے سیاسی، مذہبی و قبائلی شخصیات کا کردار اہم ہے۔ پولیو ورکرز کا کہنا ہے کہ ہر علاقے میں حاجی خان محمد بڑیچ جیسی شخصیات ہوں تو جلد بلوچستان پولیو فری ہو جائے گا۔
منظور احمد اے آر وائی نیوز بلوچستان سے وابستہ سینیئر رپورٹر ہیں


