site
stats
پاکستان

پشاور کا پانی پولیو وائرس سے پاک قرار، عمران خان کا اظہار مسرت

اسلام آباد: عمران خان نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پشاور کے پانی کو پولیو وائرس سے پاک قرار دیے جانے پر کہا ہے کہ یہ سب عزم اور نیک نیتی سے ممکن ہوسکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور میں پولیو وائرس کی افزائش کے ذخیرہ سے پانی کے جو نمونے لیے گئے ان میں پولیو وائرس کی عدم موجودگی رپورٹ کی گئی جس کی تصدیق عالمی ادارہ صحت نے بھی کی۔ طبی ماہرین کے مطابق اکتوبر سے مسلسل پشاور سے پانی کے نمونے لیے جارہے تھے جس کے بعد اب پہلی بار ان نمونوں میں پولیو وائرس کی رپورٹ منفی آئی ہے۔

یہ نمونے شاہین مسلم ٹاؤن سے لیے گئے ہیں۔ شاہین مسلم ٹاؤن پولیو وائرس کی افزائش کے حوالے سے موزوں ترین علاقہ تھا جو انسداد پولیو کے لیے کام کرنے والے ماہرین اور حکام کے لیے باعث تشویش تھا۔ نومبر سے مستقل لیے جانے والے ان نمونوں میں پہلی بار پولیو وائرس کی عدم موجودگی دیکھنے میں آئی ہے۔

انسداد پولیو کے لیے جاپان کا پاکستان کو قرض *

پولیو کا شکار پاکستانی نوجوان باڈی بلڈنگ کا ورلڈ چمپیئن *

حکام کے مطابق افغانستان اور فاٹا سے آنے والے افراد کے باعث پولیو کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا تھا تاہم اس سال صرف 6 کیسز تشخیص ہوئے۔ ان کے مطابق افغانستان میں یہ وائرس اپنے عروج پر ہے اور وہیں سے آنے والے مہاجرین کی وجہ سے یہ وائرس خیبر پختونخوا میں بھی پھیل رہا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس میں کمی ان کوششوں کا نتیجہ ہے جو حکومت کی جانب سے انسداد پولیو کے لیے نیک نیتی، خلوص اور ترجیحی بنیادوں پر کی جارہی ہیں۔

اس سے قبل ایمرجنسی آپریشن سینٹر قبائلی علاقہ جات کے میڈیا آفیسر عقیل احمد نے اے آر وائے نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے قبائلی علاقے میں پولیو کیسز کے خاتمے کی تصدیق کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ قبائلی علاقے میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار اور پولیو کیسز کی شرح میں حیرت انگیز کمی آئی ہے اور انتظامیہ کی جانب سے کوششیں جاری ہیں کہ سال 2016 کے اختتام تک قبائلی علاقہ پولیو کی لعنت سے پاک ہوجائے۔

عقیل احمد کا کہنا تھا کہ ’جہاں پولیو کیسز صفر تک پہنچے ہیں وہیں قبائل میں پولیو سے بچاؤ اور قطرے پلانے کے حوالے سے سوچ میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ 2014 میں بیشتر قبائلی علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے سبب پولیو قطرے پلانے سے انکار اور رسائی نہ ہونے کے کیسز کی تعداد 33،0618 یعنی 31 فیصد تھی جو اب مئی 2016میں کم ہو کر ایک فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے‘۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2016 میں افغانستان میں 5 اور خیبر پختونخوا میں پولیو کے 6 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ پاکستان کے دیگرعلاقوں سے بلوچستان میں 1، سندھ میں 4 جبکہ پنجاب، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر میں کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس طرح پاکستان میں اس سال مئی تک کل 11 کیسز سامنے آئے ہیں۔

قبائلی علاقوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی 2014 میں پولیو کیسز کی تعداد 68 تھی جو 2016میں گھٹ کر 6 تک آگئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top