The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی پولیو ورکرز کے لیے بین الاقوامی اعزاز

اسلام آباد / پیرس: پیرس میں 4 پاکستانی پولیو ورکرز کو پولیو کے خاتمے کے لیے ان تھک جدوجہد اور جان ہتھیلی پر رکھ کر خدمات انجام دینے کے لیے لوئیس پاسچر میڈلز سے نوازا گیا۔

پاکستانی پولیو ورکرز محمد خرم شہزاد، سید لطیف، عذرا الطاف اور عزیز میمن کو یہ میڈلز فرانس کے پاسچر انسٹیٹیوٹ کی جانب سے دیے گئے۔ انعامات دینے کی تقریب گزشتہ روز پولیو کے عالمی دن کے موقع پر پیرس میں منعقد کی گئی۔

سوچ میں تبدیلی پولیو کے خاتمے کے لیے ضروری *

اس موقع پر فرانس میں تعینات پاکستانی سفیر معین الحق، عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان اور فرانسیسی حکومت کے نمائندگان موجود تھے جنہوں نے انعام یافتگان کو میڈلز پہنائے۔

اس موقع پر پاکستانی سفیر معین الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان سے پولیو کا خاتمہ پہلی قومی ترجیح ہے اور اس کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی پولیو ورکرز کو انعام سے نوازا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستانی کوشوں کا اعتراف کیا جارہا ہے اور بہت جلد پاکستان ایک پولیو فری ملک بن جائے گا۔

قبائلی علاقے میں پولیو کیسز کی شرح صفر *

واضح رہے کہ سنہ 2014 میں پاکستان میں پولیو وائرس کے مریضوں کی تعداد 306 تک جا پہنچی تھی جو پچھلے 14 سال کی بلند ترین شرح تھی۔ اس کے بعد پاکستان پر سفری پابندیاں بھی عائد کردی گئیں تھی۔

تاہم حکومتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے چلائی جانے والی آگاہی مہمات اور وقتاً فوقتاً چلائی جانے والی پولیو مہمات کا مثبت نتیجہ نکلا اور سنہ 2015 میں پولیو کیسز کی تعداد گھٹ کر 54 ہوگئی۔ رواں سال یہ تعداد مزید کم ہوگئی اور 2016 کے 10 ماہ میں 16 پولیو کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں