site
stats
پاکستان

جہانگیر بدر کا سیاسی سفر

پیپلز پارٹی کے اہم رہنما جہانگیر بدر کل رات مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے جبکہ انہیں دل کے دورے کے باعث اسپتال لایا گیا تھا۔

جہانگیر بدرکی نماز جنازہ آج شام چار بجے جامعہ پنجاب لاہور میں پڑھائی جائے گی۔ ان کے سیاسی سفر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

پچیس اکتوبر 1944 کو لاہور میں پیدا ہونے والے جہانگیر بدر نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز زمانہ طالب علمی سے شروع کردیا تھا۔ انہوں نے جامعہ پنجاب سے کامرس، لا اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

جامعہ پنجاب میں وہ طلبہ یونین کے صدر رہے۔ سنہ 1988 میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا اور وہ پنجاب اور قومی اسمبلی دونوں کی سیٹوں کے لیے فتح یاب ہوئے۔ اسی سال انہیں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم اور قدرتی ذرائع، ہاؤسنگ اینڈ ورکس، اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا قلمدان بھی سونپ دیا گیا۔

بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت 1994 میں جہانگیر بدر کو وفاقی وزیر برائے سیاسی و مذہبی امور تعینات کیا گیا۔

جہانگیر بدر سنہ 1994 اور سنہ 2009 میں سینیٹر بھی منتخب ہوئے جبکہ وہ سنہ 1999 سے پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی رہے۔

سینیٹ میں وہ کمیٹی برائے خارجہ معاملات، امور کشمیر، گلگت بلتستان، پیٹرولیم اور قدرتی ذرائع، لا، جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس، پارلیمانی امور، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور کھیل کے رکن بھی رہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top