The news is by your side.

Advertisement

عدم اعتماد کے بعد بلوچستان حکومت کو پہلا دھچکا

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد ان کی حکومت کو پہلا دھچکا لگ گیا۔

بلوچستان میں سیاسی بحران آگیا۔ صوبائی وزیر نوابزادہ طارق مگسی نے صوبائی کابینہ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ نوابزادہ طارق مگسی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے، کابینہ کا حصہ نہیں رہ سکتا، کل دوپہر قائم مقام گورنر کو استعفیٰ پیش کیا جائے گا۔

ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ طارق مگسی نے قائم مقام گورنر جان جمالی کو اپنے مستعفی ہونے سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے جس پر 14 اراکین کے دستخط موجود ہیں۔

وزیر اعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد سابق وزیر اعلیٰ جام کمال، سردار یار محمد رند اور ظہور بلیدی نے جمع کرائی ہے۔

ذرائع کے مطابق عدم اعتماد جمع کرانے سے قبل بی اے پی، اے این پی اور پی ٹی آئی اراکین میں مکمل مشاورت کی گئی، سردار یار محمد رند، جام کمال اور اصغر اچکزئی دو روز تک اس حوالے سے مشاورت میں مصروف رہے اور مطلوبہ اراکین کی تعداد پوری ہونے کے بعد یہ قرار داد جمع کرائی گئی ہے۔

عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ 6، 7ماہ سے سیاسی معاملات پر تحفظات تھے، کارکردگی اچھی نہیں تھی اس کے باوجود اچھے کی امید رکھی لیکن بلوچستان میں بہتری نظرنہیں آرہی تھی، کئی بار کہا کہ بلوچستان کے ساتھ ظلم کو نظرانداز نہیں کرسکتے، عوام میں تاثر جارہا تھا کہ ظلم میں ہم بھی شریک ہیں جبکہ ایسا نہیں تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں