سیاسی رہنماؤں کی پشاور یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس کے تشدد کی شدید مذمت -
The news is by your side.

Advertisement

سیاسی رہنماؤں کی پشاور یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس کے تشدد کی شدید مذمت

پشاور: خیبر پختونخوا میں جامعہ پشاور کے طلبہ کا فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے تشدد پر سیاسی رہنماؤں نے سخت ردِ ظاہر کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔

دوسری طرف ترجمان صوبائی حکومت شوکت یوسف زئی کہتے ہیں کہ معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، کسی کو من مانی اور ایڈمنسٹریشن پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

پیپلز پارٹی کا طلبہ پر تشدد کا مقدمہ گورنر کے خلاف درج کرانے کا اعلان

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے طلبہ پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار طلبہ کو فوری رہا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں دی جائیں، فیسوں میں اضافے کے نوٹس کے بجائے طلبہ پر لاٹھی چارج قابلِ مذمت ہے۔

انھوں نے کہا کہ طلبہ کے مطالبات فی الفورتسلیم کیے جائیں، طلبہ پر تشدد کی اجازت دینے والوں کے خلاف بھی فوری کارروائی کی جائے۔

جماعت اسلامی طلبہ پر لاٹھی چارج کا معاملہ اسمبلی میں اٹھائے گی

پشاور یونی ورسٹی کے طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی آواز اٹھائی، پی پی رہنما نگہت اورکزئی نے طلبہ پر تشدد کا مقدمہ گورنر کے خلاف درج کرانے کا اعلان کر دیا۔


تفصیلی خبر یہاں  پڑھیں:  جامعہ پشاور کے طلبہ کا احتجاج، لاٹھی چارج اور پتھراؤ


عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیار ولی خان نے بھی طلبہ پر پولیس تشدد کی مذمت کی، کہا واقعہ قابلِ مذمت ہے، پولیس نے نہتے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا۔

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے طلبہ پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا طلبہ جمہوری حقوق کے لیے قانونی دائرے میں احتجاج کر رہے تھے، فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کوئی جرم نہیں۔

انھوں نے کہا کہ یونی ورسٹی انتظامیہ کا فرض تھا طلبہ قیادت سے مذاکرات کرتی، جماعت اسلامی طلبہ پر لاٹھی چارج کا معاملہ اسمبلی میں اٹھائے گی۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار طلبہ کو فوری رہا کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں