site
stats
سندھ

ڈاکٹر فاروق ستار کی گاڑی کو حادثہ، سیاسی رہنماؤں کی نیک خواہشات

کراچی: سربراہ ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار کی گاڑی کو حادثے کے بعد سیاسی رہنماؤں کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق حیدرآباد سے کراچی واپس آتے ہوئے نوری آباد پر ٹریفک حادثہ پیش آیا جس میں سربراہ ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار  کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور اُس میں موجود حفاظت پر مامور پولیس اہکاروں، ڈرائیور اور پرسنل سیکریٹری میں موجود تھے، حادثے کے نتیجے میں ڈاکٹر فاروق ستار کو چوٹیں آئیں تاہم اُن کے گارڈز اور سیکریٹری سبطین کی حالات تشیویش ناک ہے، تمام زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار کو ناظم آباد میں واقع اے او کلینک منتقل کیا گیا ہے۔

پڑھیں: نوری آباد پرڈاکٹرفاروق ستار کی گاڑی کو خوفناک حادثہ، شدید چوٹیں آئیں

اس ضمن میں پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے ڈاکٹر فاروق ستار کی گاڑی کے حادثے پر شدید تشیویش کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی جبکہ تحریک انصاف کے رہنماء عمران اسماعیل نے اپوزیشن لیڈر سندھ خواجہ اظہار الحسن سے رابطہ کر کے تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن واسع جلیل نے قائد ایم کیو ایم اور کنونیئر ندیم نصرت کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار کی گاڑی کے حادثے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔

علاوہ ازیں معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے بھی ڈاکٹر فاروق ستار کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور اُن کی سیاسی زندگی میں جلد واپسی کی خواہش کا اظہار کیا۔

ایم کیو ایم کی منحرف رکن اسمبلی ارم عظیم فاروقی نے بھی فاروق ستار کی گاڑی کے حادثے پر اُن کے لیے دعائے صحت اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر سلیم ضیاء اے او کلینک پہنچے اور ایم کیو ایم کے پارلیمنٹیرین سے ملاقات کر کے فاروق ستار کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے پارٹی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری ڈاکٹر فاروق ستار اور اُن کے ساتھ زخمی ہونے والوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور اُن کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top