اسلام آباد : پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر سیاسی رہنماؤں نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر مختلف سیاسی رہنماؤں نے سخت ردعمل دیا ہے اور حکومت کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر تقریباً سو روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو ٹیکس کم کرکے عوام کو ریلیف دینا چاہیے تھا، مگر اس کے برعکس پیٹرول کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافہ کردیا گیا، جو مڈل کلاس کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
حکومت اس وقت فی لیٹر پٹرولیم مصنوعات پر سو روپے ٹیکس لے رہی ہے، بجائے اس کے کہ ٹیکس کم کر کے عوام کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بحران سے بچایا جاتا حکومت نے پٹولیم کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافہ کر دیا ہے، یہ اضافہ مڈل کلاس کی مکمل تباھی کر دے گا، حکومت اپنی عیاشیاں کم کرنے کو…
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) March 6, 2026
اسی طرح سید عمران شفقت نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں ایک ساتھ 55 روپے فی لیٹر اضافہ ظلم کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت عالمی حالات کا جواز پیش کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نئی عالمی قیمتوں پر ابھی تک پیٹرول خریدا ہی نہیں گیا۔
پٹرولیم مصنوعات میں یکمشت 55 روپے فی لیٹر اضافہ ظلم کے علاوہ کچھ اور ہے تو حکومت سمجھائے ، حکومت کی بڑی دلیل یہ ہے کہ عالمی حالات کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے ابھی تک عالمی منڈی سے نئی قیمت پر پٹرول خریدا ہی نہیں
— Syed Imran Shafqat (@SImranshafqat) March 6, 2026
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے حکومت کو اپنی عیاشیوں اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنی چاہیے تاکہ مہنگائی سے پریشان عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔
حکومت پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے اپنی عیاشیوں اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرے تاکہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) March 6, 2026
دوسری جانب رہنما ندیم افضل چن نے بھی سوال اٹھایا کہ جنگ ہو ،کرونا ہو، مشکل حالات میں ہمیشہ عوام ہی قربانیاں دیتے ہیں، جبکہ اشرافیہ کی مراعات میں کمی نظر نہیں آتی۔
سیاسی رہنماؤں کے ان بیانات کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
حکومت اس وقت فی لیٹر پٹرولیم مصنوعات پر سو روپے ٹیکس لے رہی ہے، بجائے اس کے کہ ٹیکس کم کر کے عوام کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بحران سے بچایا جاتا حکومت نے پٹولیم کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافہ کر دیا ہے، یہ اضافہ مڈل کلاس کی مکمل تباھی کر دے گا، حکومت اپنی عیاشیاں کم کرنے کو…
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) March 6, 2026
پٹرولیم مصنوعات میں یکمشت 55 روپے فی لیٹر اضافہ ظلم کے علاوہ کچھ اور ہے تو حکومت سمجھائے ، حکومت کی بڑی دلیل یہ ہے کہ عالمی حالات کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے ابھی تک عالمی منڈی سے نئی قیمت پر پٹرول خریدا ہی نہیں
— Syed Imran Shafqat (@SImranshafqat) March 6, 2026
حکومت پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے اپنی عیاشیوں اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرے تاکہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) March 6, 2026
جنگ ھو ،کرونا ھو۔ عوام تو قربانیاں دیتی ھے۔ پٹرول ۔دوائ اور اناج مہنگا ھونے کی صورت میں۔ اشرافیہ نے کس چیز کی قربانی دی موجودہ حالات میں۔ ؟؟ کوی مراعات وغیرہ میں کمی ھوی ھو ؟؟
— Nadeem Afzal Chan (@NadeemAfzalChan) March 6, 2026


