site
stats
پاکستان

سیاسی جماعتوں‌ نے وفاقی بجٹ‌ مسترد کردیا

ایم کیو ایم پاکستان نے وفاقی بجٹ کو مسترد کردیا، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ غریبوں پر ٹیکس بڑھادیا گیا، کسانوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، جاگیرداروں پر ٹیکس لگنا چاہیے،غریب پر ٹیکس نہ لگایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے قرضوں کی کوئی اسکیم نہیں دی گئی، پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ فاروق ستار نے کہا کہ حکومت کا آخری بجٹ میں عوام کے لیے اعلان کرنا چاہیے تھا مگر افسوس ایسا نہیں کیا گیا۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آخری بجٹ میں بھی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو توقعات تھیں کہ حکومت خصوصی ریلیف دے گی، مگر ایسا نہ ہوا، بجٹ کا خسارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، تعلیم اور صحت میں کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھایا گیا، کشکول توڑنے کے دعوے داروں نے قرض نہ لینے کی یقین دہانی نہیں کرائی۔

مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ نواز شریف اور اسحاق ڈار کا بجٹ عوام دشمن ہے،حکومت کسانوں سمیت تمام طبقات کو تکلیف دے رہی ہے،تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیگی حکمرانوں کے جھوٹے کسان پیکیج پٹواری پیکیج ہیں،پُرامن کسانوں پر ظلم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف بھارت کے کسانوں کو خوش کرنا چھوڑ دیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم اضافہ کیاگیا،کراچی کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جانا چاہیے تھا، کراچی میں ماس ٹرانزٹ پروگرام کے لیے خصوصی رقم دی جاتی۔

جماعت اسلامی کے امیر نعیم الرحمان نے کہا کہ بجٹ میں کراچی کو حصہ نہیں دیا گیا، نئے سرچارجز لگا کر بجلی مزید مہنگی کی جارہی ہے، بجٹ میں غریب کو ریلیف نہیں دیا گیا۔

تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ 30 سال میں سب سے کم سرمایہ کاری موجودہ حکومت کے دور میں ہوئی، پاکستان کی معیشت دنیا کی بہ نسبت پیچھے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پیداواری سیکٹر پر سب سے زیادہ بوجھ ڈالا گیا، بجٹ میں کسانوں کو ریلیف دینا اچھی بات ہے۔ حکومت شخصیت وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے کہا ہے کہ حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا۔

 دوسری جانب تاجروں نے بھی بجٹ کو مسترد کردیا ہے۔

خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی افضل نے کہا کہ وفاقی بجٹ لفظوں کا ہیر پھیر ہے،دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کی انڈسٹری کے لیےے کچھ نہیں کیا گیا۔

حاجی افضل نے مزید کہا کہ وفاق بجٹ واپس لے اور عوام دوست کا بجٹ تیار کرے۔

چیئرمین لاہور چیمبر آف کامرس عبدالباسط نے کہا کہ بجٹ بظاہر متوازن نظر آرہا ہے، بجٹ میں کالاباغ ڈیم کا ذکر تک نہیں کیا گیا، ٹرن اوور ٹیکس میںں اضافہ نا انصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے چھاپے،ریکارڈ اٹھا کر لےجانا ناانصافی ہے، برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ ایف بی آر کا رویہ ہے، سیمنٹ اور سریے پرر ٹیکس میں اضافہ معیشت کے لیے سود مند نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ پر آنے کے باوجود نان فائلرز کو نظر انداز کیا جارہا ہے، کارپوریٹ ٹیکس میں ایک فیصد کمی خوش آئند ہے، حکومت غیر ضروریی چیزوں کی درآمد پر پابندی لگائے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں تبدیلی لائی جائے، غریبوں کو بھیک دینے کے بجائے خود انحصار بنایا جائے۔

دوسری جانب پاکستان فیڈریشن چیمبر آف کامرس نے بجٹ کو متوازن قرار دے دیا، صدرایف پی سی سی آئی زبیر طفیل نے کہا کہ اگست تک سیلز ریفنڈ دینےے کا اعلان خوش آئند ہے،اگست تک ریفنڈ ادا نہیں کیے تو تاجر اسلام آباد جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیداواری لاگت بڑھتی جارہی ہے، بجلی قیمت کم ہو تو برآمدات دوبارہ 25 ار ب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، ایف بی آر کے محصولات میںں اضافہ نہیں ہورہا، 500 ارب روپے کے نئے ٹیکسز کہیں نہ کہیں بوجھ ضرور بنیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top