site
stats
پاکستان

پاکستان اور پوری قوم کو پاناما کی نظر کردیا گیا، فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں سیاسی لوگ ایک دوسرے کو چور کہہ رہے ہیں جبکہ انہیں معلوم ہے کوئی بھی سیاست دان اکیلے کرپشن نہیں کرسکتا، پاکستان اور پوری قوم کو پاناما سازش کی نظر کردیا گیا، ملک میں تاثر دیا جانے لگا کہ آمریت جمہوریت سے بہتر ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف سازش کی جارہی ہے، آج ایک اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک کے خلاف کام کررہا ہے اور ہم ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاناما کیس پاکستان کے خلاف سازش ہے اور آج پوری قوم کو پاناما کی نظر کردیا گیا، سیاست دان ایک دوسرے کے کپڑے اتار رہے ہیں اور اسمبلی میں ایک دوسرے کو چور کہہ کر مخاطب کررہے ہیں، ملک میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آمریت جمہوریت کے مقابلے میں بہتر ہے، کوئی بھی ملک باہمی اعتماد اور اتحاد کے بغیر نہیں چلایا جاسکتا، سب نے مل کر ایک شخص پر تجربے کیے جس کی وجہ سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے، ملک میں سنجیدہ سیاست ہونی چاہیے تاکہ ملکی ترقی کا سفر جاری رہے اور پاکستان بحرانوں سے دور رہے، عالمی طاقتیں اپنے لوگوں کے ذریعے ملک میں مغرب کی تہذیب ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

مسلم لیگ ن کے اتحادی مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کوئی ادارہ یہ نہ سوچے کہ وہ طاقت کی بنیاد پر فیصلہ کرلے گا، مشرف دور میں نیب نے پاک فوج، بیورو کریسی اور دیگر اداروں سے سب سے زیادہ غیرقانونی رقوم کی وصولی کی جبکہ سیاستدانوں کے پاس سے بہت کم رقم وصول کی گئی۔

جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ کشمیری عوام آزادی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں جبکہ بھارتی نہتے کشمیریوں پر اشتعال انگیزی کر کے پورے خطے پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے، بھارت چاہتا ہے پاکستان ترقی نہ کرے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ آج امت کو مسائل سے نکلنے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے، ہمیں اور مسلم پڑوسی ممالک کو مضبوط ہونا پڑے گا تاکہ بیرونی سازشوں کا مقابلہ کیا جاسکے، افغانستان میں عدم استحکام امریکی مداخلت کی وجہ سے آیا جبکہ اب بیرونی سازشیں پاناما جیسے معاملے کو طول دے کر پاکستان کو بھی افغانستان بنانا چاہتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top