The news is by your side.

Advertisement

سیاستدان عوام کی خدمت کا دم بھرتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے، میاں زاہد حسین

کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین کا کہنا ہے کہ زرعی شعبہ کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ملکی ترقی خواب رہے گی۔

بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیاستدان عوام کی خدمت کا دم بھرتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے، جی ڈی پی کے 19.2 فیصد پر مشتمل زرعی شعبہ سے ٹیکس وصول کرنے کی ذمہ داری ایف بی آر کے سپرد کرنے سے 5.5 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صنعت، تجارت، خدمات، ٹیلی کام اور دیگر شعبوں پر ٹیکس کا بھاری بوجھ کم کیا جا سکتا ہے جس سے مہنگائی و بیروزگاری اور غربت میں کمی ہوگی، ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا، اس لئے اس پر غور کیا جائے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ جی ڈی پی میں صنعتی شعبہ کا حجم 21فیصد اور اس پر ٹیکسوں کا بوجھ 70 فیصد ہے، خدمات کا حجم60 فیصد، ٹیکس کا بوجھ تقریباً 30 فیصد جبکہ زرعی شعبہ پر ٹیکس کا بوجھ ایک فیصد سے بھی کم ہے، ٹیکس کے نظام میں برابری نہ ہونے کے سبب ملک میں صنعتکاری کا عمل متاثر ہو رہا ہے اور تاجر ملک گیر احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کئے بغیر ٹیکس کا نظام کبھی متوازن نہیں ہو سکتا، صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں زرعی پس منظر رکھنے والوں کی اکثریت ہے جو عوام کی خدمات کا دم بھرتے ہیں مگر ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے تو پھر آئینی ترامیم کے ذریعے زرعی آمدنی پر ٹیکس کا حصول وفاق کے سپرد کر دینا چائیے تاکہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو اور یہ شعبہ جو مسلسل کمزور ہو رہا ہے ترقی کر سکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں