site
stats
پاکستان

پنجاب حکومت کو مارچ سے پہلے کِک مارچ ہوجائے گا، شیخ رشید

اسلام آباد : لاہور ہائیکورٹ کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری پورٹ منظر عام پر لانے کا حکم کے بعد سیاسی رہنماوں کا کہنا ہے حکومت کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئیے، فیصلے سے لوگو ں کو انصاف ملے گا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری پورٹ منظر عام پر لانے کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں نے درعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئیے۔

ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل ہوناچاہئے،سیاست نہیں کرناچاہتا، خورشید شاہ

اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا رپورٹ منظر عام پر آنی چاہئیے، حکومت کی کوشش تھی کہ اہم رپورٹ منظر عام پر نہ آئے، سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انکوائری رپورٹ بہت اہم ہے، ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل ہوناچاہئے،سیاست نہیں کرناچاہتا۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرناپنجاب حکومت کا حق ہے ، اہم فیصلے پر امن وامان کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔

پنجاب حکومت کو مارچ سے پہلے کِٰک مارچ ہوجائے گا، شیخ رشید

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا ان کا تابوت نکلے گا اب سپریم کورٹ بھی ان کا کیس نہیں سنے گا، یہ لوگ اپنے آپ کو خدا سمجھتے تھے ، پنجاب حکومت نے ماڈل ٹاؤن میں ظلم کیا تھا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کو مارچ سے پہلے کِٰک مارچ ہوجائے گا۔

آج انصاف کی جیت ہوئی ہے ہر شہری چاہتا ہے کہ ماڈل ٹاؤن متاثرین کو انصاف ملے، فواد چوہدری

تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر درعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج انصاف کی جیت ہوئی ہے ہر شہری چاہتا ہے کہ ماڈل ٹاؤن متاثرین کو انصاف ملے، انکوائری رپورٹ میں ملزمان کا تعین ہوچکا ہے۔

فوادچوہدری کا کہنا تھا کہ ملزمان کا تعین ہوچکا ہے اس لئے حکومت ہچکچارہی ہے، پہلے ایک جج اور اب 3ججز نے فیصلہ دیا ہے، رپورٹ منظر عام پر آنے سے امن وامان کیسے خراب ہوگا سمجھ سے باہرہے، پنجاب حکومت کا مؤقف مضحکہ خیز ہے۔

باقرنجفی رپورٹ آج ہی حاصل کرکےرہیں گے، خرم نواز گنڈا پور

خرم نواز گنڈا پور کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کے فیصلہ پر کہنا ہے کہ باقرنجفی رپورٹ آج ہی حاصل کرکےرہیں گے، عدالتی حکم کے مطابق متاثرین کوفوری رپورٹ کی کاپی دی جائے۔

دوسری جانب سیاسی رہنما کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے لوگو ں کو انصاف ملے گا۔


مزید پڑھیں : لاہور ہائیکورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ 30 دن میں شائع کرنے کا حکم


یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس عابد سعیدشیخ کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے حکومتی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے رپورٹ شائع کرنے کا سنگل بینچ کا حکم برقرار رکھا۔

لاہور ہائکیورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ شائع کرنے کے حکم کیخلاف حکومتی اپیل مسترد کردی اور باقرنجفی رپورٹ 30 دن میں شائع کرنے کا حکم دیدیا۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ متاثرین کو فوری طور پر رپورٹ کی کاپی فراہم کی جائے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top