جمعرات, دسمبر 11, 2025
اشتہار

زباں پھسلی تو بے نقاب ہوئے!

اشتہار

حیرت انگیز

بات اگر زبان کی ہو تو کچھ لوگ زبان دراز ہوتے ہیں اور کچھ لوگ چرب زبان کہلاتے ہیں۔ ایک صنف بے زبان بھی ہوتی ہے، لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جن کو زبان کی لغزش کا عارضہ لاحق ہے جس کو اردو میں زبان کا پھسلنا اور انگریزی میں (Tongue slip) کہا جاتا ہے۔

یہ عارضہ اتنا خطرناک ہے کہ بزرگ پہلے ہی سمجھا گئے کہ "پہلے تولو پھر بولو”۔
زبان کو قابو میں رکھنے کی یہ نصیحت کرنے والوں نے بے پر کی تو نہیں اڑائی ہوگی بلکہ اپنی زندگی کے تجربات کی بنا پر ہی کہا ہو گا۔ لیکن آج جب زندگی میں ہر چیز تیز رفتار ہو گئی ہے، تو لوگوں کی زبان بھی قینچی کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہو گئی ہے۔ پہلے قینچی کپڑے کترتی یا کاٹتی تھی اب یہ لوگوں کے انسانیت کے پرخچے اڑاتی ہے۔ دوسرا ہر کوئی ترازو لیے نہیں بیٹھا خاص طور پر عالمی شہرت کی حامل شخصیات۔ آج جو دنیا والے خاص طور پر عالمی سیاسی کھلاڑیوں کے پیروں کی لڑکھڑاہٹ کے ساتھ زبان کا پھسلنا دیکھ رہے ہیں۔ تاہم جو زبان بار بار پھسلے وہ پھر زبان کی لغزش نہیں کہی جا سکتی۔ لیکن سیاستدان عالمی ہوں یا مقامی وہ زبان پھسلنے کا سہارا لے کر تاک تاک کر اپنے مخالفین پر بار بار نشانے لگاتے ہیں اور پھر اس کو (Tongue slip) کہہ کر زیر لب مسکراتے ہیں۔

بہرحال زبان کی لغزش یا پھسلن کا تذکرہ ایک بار پھر اس وقت عالمی میڈیا کی زینت بنا، جب حال ہی میں وائٹ ہاوس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران صحافی کے سوال کا طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا "تمہاری ماں” اور وہاں سے مارے غصے کے چلتی بنیں۔ یہ لفظ ہمارے ہاں استعمال ہوتا تو یقینی طور پر اس کو گالی کے طور پر لیا جاتا، مگر امریکی معاشرے میں اس کو کیا سمجھا جائے گا یہ وہ جانیں۔ لیکن وہاں موجود صحافی ضرور ان کے غیر مہذبانہ رویے پر حیران ہو گئے۔ تاہم زبان کی لغزش کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جو عالمی اسٹیج پر کہا گیا ہو، بلکہ درجنوں واقعات اب سفارتی آداب کی گرتی اقدار پر نوحہ کناں ہیں۔

لگتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے زبان پھسلنے کا سبق اپنے صدر ٹرمپ سے ہی سیکھا ہے جو دوسری مدت گزار رہے ہیں، لیکن ان کی زبان پہلی صدارتی مدت سے ہی پھسل رہی ہے اور اتنا پھسل چکی ہے کہ اب شاید اس میں اٹھنے کی طاقت نہیں رہی۔ ٹرمپ نے 2016 میں صدر بننے کے بعد افریقی صدور اور ہیٹی کے صدر کو "شٹ اپ ہول کنٹریز” کا پیغام اور پڑوسی ملک کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو "کمزور اور منافق” کہہ کر بتا دیا کہ اب سیاسی اور سفارتی اخلاقیات کہاں جا پہنچی ہیں۔ دوسرے دور صدارت کے ابتدائی 10 ماہ میں ان کے غیروں اور حریفوں کے ساتھ ساتھ اپنے حامیوں اور ساتھیوں سے متعلق بھی کئی مضحکہ خیز بیانات میڈیا کی زینت بن چکے ہیں۔

چند ماہ قبل یوکرینی صدر زیلنسکی کو وائٹ ہاوس بلا کر اپنے نائب جے ڈی ونس کے ساتھ مل کر بلا کر ان کی لباس پر تضحیک کرکے ٹھٹا اڑانا، اور چلا کر مہمان یوکرینی ہم منصب سے بات کرنا سب کو یاد ہوگا۔ یہ غالباً جدید جمہوری دنیا کا پہلا واقعہ ہے کہ جس میں دو سربراہان مملکت کی ملاقات میں آداب میزبانی اور سفارتی آداب کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ صرف زیلنسکی ہی نہیں بلکہ ٹرمپ نے اپنے کولمبین ہم منصب گسٹاو پیٹرو کو بھی نہ بخشا اور انہیں سرعام "غیر قانونی منشیات فروش” قرار دیا۔

چرب زبانی اور زبان پھسلنے کے اس فن میں صرف امریکی سیاستدان ہی ماہر نہیں بلکہ یہ صلاحیت سرحدوں سے ماورا ہر ملک اور براعظم میں پھیلی ہے۔ جب وائٹ ہاوس کی ترجمان قینچی کی طرح زبان چلا رہی تھیں، اسی کے آس پاس چینی وزارت تجارت نے تائیوان کے اقدامات کو "سیاسی جسم فروشی” سے تعبیر کرتے ہوئے بیان کیا۔ چند قبل اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے اپنی سیاسی اختلاف کو "چور، قابل رحم، ناگوار اور قے” سے تشبیہہ دی۔

ذکر کریں اگر ہم اپنے ملک پاکستان کا تو یہاں کے سیاستدان بھی عالمی سیاستدانوں سے کم نہیں بلکہ دو چار ہاتھ نہیں میلوں آگے ہیں۔ زبان پھسلنے اور سیاسی بد اخلاقی تو ہمارے سیاستدانوں میں بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہے، بلکہ جس طرح سے یہاں وراثتی سیاست چل رہی ہے، ایسے ہی یہ ’’خوبی‘‘ بھی وراثت میں ملی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ یہاں تو بات زبان کی پھسلن سے ہاتھوں کی پھسلن تک جا پہنچی اور ایک دوسرے کو مضحکہ خیز اور شرمناک خطاب دینے کے بعد موقع ملنے پر نازیبا اشارے کر کے تنقید کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ ہماری سیاست میں جو حقیقت میں سیاستدانوں کی زبان پھسلی تو پھر کانپیں ٹانگنا، زیادہ بارش اور زیادہ پانی، انڈے کتنے روپے کلو، بلاول بھٹو کو شہید کہنا، ملک میں 12 موسم، جاپان اور جرمنی کی سرحدیں ملنے جیسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ اسی پھسلتی زبان کا سہارا لے کر سیاستدان سیاست کے منہ پر سیاہی ملتے رہے ہیں۔

شاید یہ واحد ملک ہے کہ جہاں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بہن اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ذات کو بھی نہ بخشا گیا اور سرکاری مشینری نے ان کی کردار کشی کی، وہ ان کے مرتبے کے لحاظ ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے نمایاں سیاہ دھبہ کہا جا سکتا ہے۔ بھٹو نے اپنے مخالف ریٹائرڈ ایئر مارشل کو ’’الو‘‘ کے خطاب سے نوازا تھا اور پی این اے نے بھٹو مخالفت میں ’گنجے کے سر پر ہل چلے گا‘ کا نعرہ لگا کر اسکو اپنے انتخابی نشان ’ہل‘ سے نتھی کیا۔

پاکستانی سیاست میں 90 کی دہائی کس کو بھولے گی۔ نئی نسل جو آج پی پی اور ن لیگ کو ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنے دیکھ رہی ہے، وہ ضرور حیران ہو گی کہ 30 سال قبل یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی اتنی کٹر دشمن تھیں کہ ایک جانب سے مخالفین پر لفظوں کے ’’تیر‘‘ چلائے جاتے تو دوسری جانب سے ’’شیر‘‘ کی دہاڑ کے ساتھ جواب دیا جاتا۔ اسی دور میں مولانا فضل الرحمان نے بینظیر کی حکومت کو عورت کے وزیراعظم کا حکمران ہونے کا جواز بنا کر غیر اسلامی قرار دیا۔ فضل الرحمان کو 1994 میں ن لیگ نے اس وقت ڈیزل کہنا شروع کیا تھا جب فضل الرحمان نے یوٹرن لیا تھا اور بینظیر کے اقتدار میں شریک ہو کر ڈیزل کا پرمٹ حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد تو ہماری سیاست میں وہ گراوٹ آئی کہ ایک دوسرے کو ڈاکو، چور، سب سے بڑی بیماری، چپڑاسی، راجکماری، کنیزیں، بھگوڑا، کُکڑی، شوباز، جھوٹوں کی نانی، فتنہ خان، یوٹرن خان، یہودیوں کا ایجنٹ، ٹک ٹاکر وزیراعلیٰ اور ایسے درجنوں القاب سے نوازا گیا اور اس میں کوئی جماعت پارسا نہیں رہی۔ چاہے اس وقت کی حکمراں جماعت ن لیگ اور اس کی اتحادی پیپلز پارٹی ہو۔ یا سابقہ حکمران پی ٹی آئی۔ ان بڑی جماعتوں کو سہارا دینے والی جماعتیں ایم کیو ایم، اے این پی، جے یو آئی بھی اس سے مبرا نہیں۔ یہ تو سیاسی میدان میں سوقیانہ پن اور زبان و بیان کی پستی اور بداخلاقی کی چند مثالیں ہیں اگر اس قسم کی غیر اخلاقی زبان اور تضحیک آمیز بیانات کی تفصیل میں‌ جائیں‌ تو ایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے۔

یہاں ہم اپنی اس تحریر کا اختتام یونان کے مشہور فلسفی افلاطون کی اس فکر پر کریں گے کہ ”ریاستیں شاہ بلوط کی لکڑی سے نہیں بلکہ انسان کے کردار سے بنتی ہیں۔” افلاطون کا یہ قول صدیوں پرانا ہے لیکن ہر زمانے میں سیاست اور ریاست سے اخلاق و کردار کے تعلق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ آج کے دور میں اگر اس کو خود پر لاگو کر لیں تو شاید یہ دنیا آنے والی نسلوں کے لیے رہنے کے قابل بن سکے۔

+ posts

ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

اہم ترین

ریحان خان
ریحان خان
ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں