عراق: امریکی حکام نے بصرہ میں‌ موجود قونصل بند کردیا US consulate in Iraq
The news is by your side.

Advertisement

عراق: امریکی حکام نے بصرہ میں‌ موجود قونصل خانہ بند کردیا

واشنگٹن : امریکی حکام نے بصرہ میں واقع امریکی قونصلیٹ کو یہ کہتے ہوئے عارضی طور بند کردیا ہے کہ ایران نواز مسلح گروہ کی جانب سے دھمکیاں موصول ہورہی تھی، جن کا جواب بعد میں ایران کو دیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب امریکا نے عراق کے شہر بصرہ میں واقع قونصل خانہ ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی دھمکیوں کے تناظر میں بند کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران کی دھمکیوں کا جواب بعد میں دیا جائے گا، تاہم امریکی وزیر نے قونصل خانہ بند کرنے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

مائیک پومپیو نے بصرہ میں امریکی قونصلیٹ کو موصول ہونے والی دھمکیوں پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق یا کسی دوسری جگہ امریکی شہری یا تنصیب کو نقصان پہنچا تو اس کا خمیازہ ایران کو بھگتنا پڑے گا پھر چاہے حملے میں ایران ملوث ہو ایرانی نواز مسلح گروہ ملوث ہوں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکیوں پر حملے کی صورت میں ایران کے خلاف موثر کارروائی کی جائے گی۔

عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے ایران پر عائد کیے جانے والے الزامات کے حوالے کسی قسم کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے ہیں۔

مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ قونصل خانہ پر ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے کسی قسم کا بھی راکٹ حملہ کیا جاسکتا ہے، اس لیے بصرہ میں موجود قونصل خانہ عارضی طور پر بند کردیا گیا۔

خیال رہے کہ سال 2018 میں دارالحکومت بغداد کے ایسے علاقے میں راکٹ حملہ ہوا تھا جس میں امریکی سفارت خانہ، حکومت عمارتیں اور عراقی پارلیمنٹ موجود ہے لیکن اس راکٹ کا نشانہ امریکا یا اس کی تنصیب نہیں تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں