بھارت میں رکشا چلانے والے غریب شخص کی بیٹی جج بن گئی india
The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں رکشا چلانے والے کی بیٹی جج بن گئی

ممبئی : غریب رکشا ڈرائیور کی بیٹی پونم ٹوڈی صوبائی سول سروس کے امتحانات میں صوبے بھر میں اول پوزیشن لا کر جج بن گئیں, وہ اپنے علاقے کی پہلی خاتون جج ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق اُتر کھنڈ کی رہائشی نوجوان لڑکی پونم ٹوڈی نے اپنے غریب باپ کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ایل ایل ایم کے امتحان میں ٹاپ کرکے خود کو جج بننے کے لیے اہل ثابت کردیا گیا ہے، پونم نے ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کے امتحانات میں صوبے بھر میں ٹاپ کیا تھا، اور اب جلد لوئر کورٹ میں جج کے فرائض انجام دیں گی۔

پونم ٹوڈی کے والد رکشا چلاتے ہیں اور یومیہ 400 سے 500 روپے کما لیتے ہیں تاہم ان کی خواہش تھی کہ پونم جج بنے اور منصف کی کرسی پر بیٹھ کرفیصلے کرے، اپنے والد کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے پونم نے کامرس سے انٹر کرنے کے بعد اپنے شوق کو ترک کرکے ایل ایل بی میں داخلہ لیا اور ٹاپ کیا۔

اشکوک ٹوڈی نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے کبھی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں تفریق نہیں کی جس نے جو پڑھنا چاہا میں نے مکمل حوصلہ افزائی کی تاہم پونم نے میری خواہش کو مقدم رکھتے ہوئے ایل ایل بی کرنے کا بیڑہ اُٹھایا اور صوبے بھر میں اول پوزیشن لے کر میرا سر فخر بلند کردیا.

سول سروس امتحانات میں ٹاپ کرنے والی پونم نے کہا کہ جج کا منصب سنبھال کر خواتین کی بہتری کے لیے کام کروں گی اور پسی خواتین کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کروں، ہمارے معاشرے میں خواتین کو ترقی کرنے اور اپنی مرضی سے کام کرنے کے آزاد اور محفوظ مواقع میسر نہیں جس کے لیے آواز اُٹھانا میری پہلی ترجیح ہوگی.


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں