The news is by your side.

Advertisement

علاج کے پیسے نہیں تھے، لاش کی تدفین کیسے کریں، غریب والدین کی دہائی

سکھر : غربت کے باعث اپنے بچے کو نجی اسپتال میں چھوڑ جانے والے والدین کے پاس تجہیز و تکفین کے پیسے بھی نہیں، انہوں نے لاش لینے سے معذرت کر لی۔

تفصیلات کے مطابق سکھر میں غریب والدین نے نومولود بچے کو علاج کے غرض سے نجی اسپتال میں داخل کروایا تھا تاہم علاج کے اخراجات کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اپنے جگر کے ٹکڑے کو اسپتال ہی چھوڑ آئے تھے جہاں آج نومولود بچہ خالق حقیقی سے جا ملا، غریب والدین کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ بچے کی تدفین کرسکیں۔

نجی اسپتال کے ایڈمن آفیسر کا کہنا ہے کہ نومولود بچے کی پیدائش سرکاری اسپتال میں ہوئی تھی جہاں انکیوبیٹرکی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں یکم جولائی کو داخل کرایا گیا جہاں 2 روز انکیو بیٹر میں رہنے کے بعد گزشتہ رات دم توڑ گیا۔

ایڈمن آفیسر کا مزید کہنا تھا کہ نومولود بچے کی دوران علاج انتقال کر جانے کی اطلاع والدین کو بذریعہ ٹیلی فون دی جا چکی ہے تاہم انہوں نے تاحال میت کے حصول کے لیے اسپتال سے رجوع نہیں کیا۔

والدین سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ علاج کرانے کے پیسے نہیں تھے تو لاش کے لیے پیسے کہاں سے لائیں جب کہ زچہ بھی نہایت تشویش ناک حالت میں گھر میں موجود ہیں‌ جس کا غربت کے باعث علاج کرانے سے قاصر ہیں۔

غریب والدین نے کہا کہ اسپتال انتظامیہ نے بلڈ ڈونر لانے کے لیے کہا تھا تاہم جب بلڈ ڈونرکی تلاش میں نکلے توپتا چلا کہ بچہ انتقال کرگیا ہے اور ہمارے پاس اتنے بھی پیسے نہیں ہیں کہ بچے کی تدفین کے انتظامات مکمل کرسکیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں