عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کی جانب سے امریکا اور یورپ میں پھیلے مسلمان مخالف جذبات پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 1 اعشاریہ 4 بلین کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران لبنان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے باہمی تعلقات کو یورپ اور امریکا کے لیے قابلِ تقلید قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پوپ لیو نے لبنان کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لبنان میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے ایک دوسرے سے تعاون کو پرکھا ہے، یہ یورپ اور امریکا کے لیے ایک مثال ہے جہاں مسلمان تارکین وطن سے لوگ خوف کھاتے ہیں۔
کیتھولک چرچ کئی سال سے دو ریاستی حل کی حامی ہے، پوپ لیو
اُن کا اپنے پیروکاروں کو ایک ”امتیازی ذہنیت” کو مسترد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں قوم پرستی جنم لے رہی ہے۔
پوپ کا مزید کہنا تھا کہ لبنان کا معاشرہ دنیا کو بتاتا ہے کہ کس طرح اسلام اور مسیحیت کے درمیان مکالمہ اور دوستانہ تعلق کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


