کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہار دہم گزشتہ روز اپنے پہلے غیر ملکی دورے کا آغاز کرتے ہوئے ترکی پہنچ گئے، یہ کیتھولک چرچ کے سربراہ کا مسیحی مسلم مکالمے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے فروغ پر توجہ دینے کے لیے تاریخی دورہ ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہار دہم کے 6 روزہ دورے میں لبنان کا سفر بھی شامل ہے۔ یہ دورہ اُن کے مئی میں پوپ منتخب ہونے کے بعد پہلا بین الاقوامی دورہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق پوپ کا ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے ایژن بوغا ایئرپورٹ پر سرکاری اعزاز اور فوجی سلامی کے ساتھ پرتپاک استقبال کیا گیا۔ پوپ کا یہ دورہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ نیسیا کی کونسل کی 1700 ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے، جس نے تاریخی نائسین کریڈ تشکیل دیا تھا۔
طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پوپ لیو چہار دہم کا کہنا تھا کہ وہ اس دورے کے لیے بے حد پُرعزم ہیں کیوں کہ یہ نہ صرف مسیحیوں کے لیے اہم ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے امن اور وحدت کا پیغام ہے۔ انہوں نے اس سفر کو ”تاریخی لمحہ“ قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق پوپ نے شکرگزاری کے امریکی تہوار (تھینکس گیونگ ڈے) کے موقع پر صحافیوں سے ملاقات کی، اس موقع پر روایتی تحائف بھی موصول کیے۔
پوپ کے شیڈول میں آرتھوڈوکس مسیحی رہنماؤں اور دیگر مذاہبی شخصیات سے ملاقاتوں کے علاوہ ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات بھی شامل ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس کی پوپ لیو سے ملاقات
28 نومبر کو پوپ آرتھوڈوکس مسیحیوں کے روحانی پیشوا ایکیومینیکل پیٹریارک بارتھولومیو کے ہمراہ ازنک جائیں گے، جہاں مذکورہ سالگرہ کی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
ترکی میں تین روزہ قیام کے بعد پوپ لبنان روانہ ہوں گے، جہاں حالیہ دنوں میں علاقائی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔


