The news is by your side.

Advertisement

بریگزٹ‘ برطانوی آبادی میں خطرناک کمی واقع ہوگی

لندن : برطانوی حکومت کے مشیر برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان بریگزٹ معاہدے پر عمل درآمد کے بعد برطانیہ کی آبادی کے تناسب میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے حکومتی مشیر برائے مہاجرین نے سیکریٹری داخلہ کو تجویز پیش کی ہے کہ یورپی یونین کے ہونے والے بریگزٹ معاہدے کے بعد برطانیہ کی آبادی میں واضح کمی واقع ہوسکتی ہے جو برطانوی معیشت پر بھی منفی اثر مرتب کرے گی۔

سیکریٹری داخلہ امبر رُڈ کا کہنا تھا کہ بریگزٹ معاہدے کے یورپی ممالک سے آنے والے تارکین وطن پر پابندی لگانے کے باعث برطانیہ کی آبادی آہستہ آہستہ سُکڑنا شروع ہوجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک سے برطانیہ آنے والے افراد بغیر کسی شرط کے مزدوری کرتے ہیں جبکہ مقامی افراد ملازمت کے اوقات کے علاوہ کام نہیں کرتے، اس تبدیلی کے باعث ملکی معیشت کو شدید نقصان ہوگا۔

برطانیہ کے سرکاری سطح پر شماریات کرنے والے ادارے کے مطابق اگر یورپی ممالک سے لوگوں کے آنے پر پابندی عائد کردی گئی تو آئندہ 20سالوں میں اسکاٹ لینڈ، ویلز، اور شمالی آئرلینڈ کی آبادی میں واضح کمی واقع ہوگی۔

برطانوی کمپنیوں کے مالکان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین سے ملازمت کی غرض سے آئے ہوئے افراد ملازمت کے لیے زیادہ اہل اور مناسب ہوتے ہیں جو کم اجرت میں زیادہ کام کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر لوگوں نے برطانیہ ہجرت کرنا بند کردی تو ملازمت پیشہ افراد کے تعداد میں کمی ہوگی جس کے باعث مصنوعات کی پیداوار بھی کم ہوگی۔


برطانیہ اور یورپی یونین کےدرمیان بریگزٹ پرعمل درآمد کا معاہدہ طےپاگیا


یاد رہے کہ برطانیہ میں 23 جون 2016 کو یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم ہوا تھا جس میں 52 فیصد برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

خیال رہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے عمل کا آغاز مارچ 2019 سے ہوگا اور دسمبر 2020 تک جاری رہے گا، اس دوران برطانیہ میں رہنے والے 45 لاکھ یورپی شہریوں کو برطانیہ جبکہ 12 لاکھ برطانوی شہریوں کو یورپی یونین میں آنے کی اجازت ہوگی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں