(20 اکتوبر 2025): پرتگال کی پارلیمنٹ نے عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے والے پر پابندی کا بل منظور کر لیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پرتگال کی پارلیمنٹ نے جمعے کو ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت عوامی مقامات پر مذہبی یا صنفی وجوہات کی بنا پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ بل پرتگال کی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت ’چیگا‘ نے پیش کیا تھا، جس کے تحت برقع، جو پورے جسم کو ڈھانپتا ہے اور نقاب جو صرف آنکھوں کے گرد جگہ چھوڑتا ہے، کے عوامی مقامات پر پہننے پر پابندی ہوگی۔
تاہم عبادت گاہوں، سفارتی دفاتر اور ہوائی جہازوں میں ان کی اجازت برقرار رہے گی اس اقدام کو کچھ مسلمان خواتین کے چہرے کے نقاب کو نشانہ بنانے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے اس بل کے تحت عوام میں چہرے کا نقاب پہننے پر مجوزہ جرمانے 200 سے 4,000 یورو ($234-$4,670) تک ہوں گے، کسی کو زبردستی پہنانے یا مجبور کرنے پر تین سال تک قید کی سزا ہو گی۔
یہ قانون شیگا پارٹی کے 60 ووٹوں کے ساتھ ساتھ مرکزِ راست کے حکومتی اتحاد اور لبرل جماعتوں کے ووٹوں سے منظور کیا گیا، جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں اور کمیونسٹوں نے اس قانون کے خلاف ووٹ دیا۔
پرتگال کے مسلم عہدیداروں کے مطابق ملک میں مسلمان خواتین میں نقاب زیادہ عام نہیں ہے، تاہم یہ ایک روایت ہے، جس پر کچھ خواتین اب بھی عمل کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ پرتگال کی چیگا جماعت گذشتہ مئی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں پرتگال کی دوسری بڑی سیاسی قوت بن کر اُبھری تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


