The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم کے استعفے: مذاکرات میں مثبت پیش رفت

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ اور حکومتی نمانئندے مولانا فضل الرحمن کے درمیان استعفوں کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے مولانا فضل الرحمن سے نائن زیرو پر ہونے والی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج مثبت پیش رفت ہورہی تھی اس سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن پہلی بار نائن زیرو تشریف لائے ہیں اور ایم کیو ایم کے لئے انتہائی محترم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن حکومت اور اپوزیشن کے مشترکہ نمائندے ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہورہی تھی کہ رشید گوڈیل کا واقع پیش آگیا۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ سیاسی عمل کو استحکام دینے کی کوشش کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ سیاسی قیادت مل کر اس مسئلے کو حل کرسکے گی۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ فضل الرحمن ثالث بن کر آئے ہیں اور انہوں نے ایم کیو ایم ست درخواست کی ہے کہ پارلیمنٹ میں رہ کر سیاسی اور جمہوری کردار جاری رکھا جائے۔

مولانا فضل الرحمن نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رویے مثبت اور نیت صاف ہو تو راستے خود بخود بن جاتے ہیں۔

انہوں نے ایم کیو ایم کے ممبر پارلیمنٹ رشید گوڈیل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں جارہے تھےکہ رشید گوڈیل کی خبر آگئی۔

انہوں نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو خراج ِ تحسین پیش کیا کہ اس قدر افسوس ناک خبر کے بعد بھی ایم کیو ایم نے مذاکرات میں مثبت رویہ اختیار کیا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ مثبت مذاکرات کے نتیجے میں سیاسی بحران کے حل کے لئے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا۔

مذاکرات کے آئندہ دور میں ایم کیو ایم اور حکومت کے نمائندے موجود ہوں گے اور وہ خود بھی اس ملاقات میں موجود رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے مذکرات لئے منتخب کئے گئے ہیں اور ایم کیو ایم نے ان مثبت ردعمل دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے ارکانِ اسمبلی گزشتہ دنوں کراچی میں جاری آپریشن پر اپنے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی اور سینٹ سے مستعفی ہوگئے تھے۔

ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر حکومت نے مولانا فضل الرحمن کی ذمہ داری لگائی کہ ایم کیو ایم کو منا کر واپس لایاجائے۔

مذاکرات کے دوران ہی ایم کیو ایم کے اہم رہنما رشید گوڈیل پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں ان کےڈرائیور جاں بحق جبکہ رشید گوڈیل شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ جن کا لیاقت نیشل اسپتال میں علاج جاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں