The news is by your side.

امریکی دھمکی کے بعد ترکی کا ایس400 سسٹم سے دست برداری کا امکان

واشنگٹن : امریکا اور ترکی کے درمیان ترکی کی طرف سے روس کے فضائی دفاعی نظام ایس 400کی خریداری کے معاملے میں پائی جانے والی کشیدگی میں کمی کے آثار دکھائی دینے لگے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شانھن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ترکی کے درمیان روس کے ایس 400 دفاعی نظام کے معاملے پر جاری کشیدگی ختم ہونے کی امید ہے۔

پیٹرک شانھن نے پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ ہم فضائی دفاعی نظام کی خریداری کی وجہ سے ترکی کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازع کو جلد حل کرلیں گے۔

امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شانھن کا کہنا تھا کہ ترکی کو ایس 400 دفاعی نظام اور ایف 35جنگی طیاروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ترکی کو بتا دیا کہ اگر ترکی ایس 400 دفاعی سسٹم کے لیے روس کے ساتھ کوئی ڈیل کرتا ہے تو اسے امریکی ساختہ ایف 35 جنگی جہازوں کی ڈیل سے محروم ہونا پڑے گا۔

مزید پڑھیں : امریکا نے ترکی کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی روک دی

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکا نے لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ساختہ ایف 35 لڑاکا جیٹ کے آلات ترکی کو مہیا کرنے کا عمل روک دیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کا کہنا ہے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک ترجمان نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا پہلے مرحلے پر ایف35 طیاروں کے پرزوں کی فراہمی روکی گئی ہے، پرزوں کے بعد ترکی کوایف35 طیارے فراہم کرنا تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے امریکا کا اپنے نیٹو اتحادی ملک کے خلاف یہ پہلا ٹھوس اقدام ہے اور اس نے یہ فیصلہ ترکی کی جانب سے روس سے میزائل دفاعی نظام ایس400 کی خریداری پر اصرار کے ردعمل میں کیا ہے۔

مزید پڑھیں : روس سے دفاعی نظام ایس 400 کی خریداری، ترکی نے امریکی دباؤ مسترد کردیا

خیال رہے کہ روس سے دفاعی نظام ایس 400 کی خریداری میں امریکی دباؤ کو مسترد کردیا،  29 مارچ کو انقرہ نے واضح کیا تھا کہ دفاعی نظام سے متعلق پہلے ہی معاہدہ طے پاچکا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا  تھاکہ ہم نے روس کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے اور اس کے پابند ہیں، دیگر ممالک کی جانب سے دباؤ عالمی قوانین کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ترکی نے امریکی کمپنی کے تیار کردہ ایف 35 جنگی طیارے کے پروگرام میں شراکت دار کے حوالے سے تمام قواعد پر عمل درآمد کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ ایف 35 منصوبے میں ترکی شراکت دار ہے اور انقرہ میں ہی طیارے کے بعض حصے تیار ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں