The news is by your side.

Advertisement

پٹرول قیمتوں میں ممکنہ اضافہ، پمپس پر عوام کا رش لگ گیا

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے عندیے کے بعد پٹرول پمپس پر شہریوں کا رش لگ گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اشارہ دیے جانے کے بعد شہر قائد میں مہنگائی کے ستائے شہریوں کا پٹرول لینے کے لیے پٹرول پمپس پر رش لگ گیا۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے منگل کی سہ پہر اسلام آباد میں ایک تقریب میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اشارہ دینے کی دیر تھی کہ شہر قائد میں افواہ پھیلنے لگی پٹرول کی قیمت میں 15 سے 20 روپے فی لیٹر ایک بار پھر اضافہ کیا جارہا ہے۔

اس خبر کے پھیلتے ہی پہلے سے مہنگائی کے ستائے شہریوں نے اپنی گاڑیوں میں پٹرول بھروانے کیلیے پٹرول پمپس کی طرف رخ کیا جس کے باعث پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس کی وجہ سے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔

دوسری جانب آئل کمپنیز نے جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے پٹرول پمپ کی سپلائی روک دی ہے، جس کے باعث ڈپو کے باہر پٹرول ٹینکرکی لائنیں لگ گئیں جب کہ پٹرول پمپس پر شہری بھی خوار ہورہے ہیں۔

اس حوالے سے پٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ابھی اضافہ بھی نہ ہوا اور سپلائی رک گئی ہے جس کے باعث کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوجائے گا کیونکہ شہر میں اس وقت چند گھنٹوں کا ہی پٹرولیم کا ذخیرہ ہے۔

پٹرولیم ڈیلرز نے آئل کمپنیوں کے مالکان سے مطالبہ کیا ہے کہ پمپس کو پٹرول کی سپلائی بحال کریں۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد میں بزنس کانفرنس کے دوران توانائی اور پٹرول کے معاملے پر خطاب کے دوران قہقہہ لگاتے ہوئے ایک اور پٹرول بم گرانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پٹرول ابھی تھوڑا اور مہنگا ہوگا۔

مفتاح اسماعیل نے قہقہہ لگا کر ایک اور پٹرول بم گرانےکا اشارہ دیدیا

مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ پٹرولیم سیکٹرمیں81 ارب روپے سبسڈی دی گئی، 3 گنا زیادہ خرچہ اس پٹرول سبسڈی کی وجہ سے ہورہا تھا، کسی بھی وزیراعظم کیلئے پٹرولیم مصنوعات پر30 روپے بڑھانا آسان نہیں ہوتا لیکن اگر پٹرول کی قیمتیں برقراررکھتے تو ہر ماہ 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں