The news is by your side.

Advertisement

مانع حمل ادویات استعمال کرنے والی خواتین ڈپریشن کا شکار

آج کل کے دور میں مانع حمل ادویات کا استعمال خواتین میں بہت عام ہے، ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مانع حمل ادویات خواتین کے دماغ کے اس حصے کو متاثر کرتی ہیں جہاں سے خوشی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، نتیجتاً خواتین خوشی کے جذبات سے محروم ہوجاتی ہیں۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں چھوٹے پیمانے پر کی جانے والی ایک تحقیق میں ان خواتین کے دماغ کا جائزہ لیا گیا جو مانع حمل ادویات استعمال کرتی تھیں۔

تحقیق میں انکشاف ہوا کہ یہ ادویات خواتین کے دماغ کے 2 اہم حصوں کی جسامت کو سکیڑ کر ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں: رحم کے کینسر کی علامات جانیں

دماغ کے یہ دونوں حصے جذبات خاص طور پر خوشی کے جذبات کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ مانع حمل ادویات کے استعمال سے ان حصوں کی کارکردگی کم ہوگئی یوں خواتین میں ڈپریشن اور ناخوشی کا احساس بڑھ گیا۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ادویات دماغ کی مجموعی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہیں جس کے باعث خواتین کو اپنے روزمرہ کے کام سر انجام دینے میں مشکل کا سامنا پیش آتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق فی الحال چھوٹے پیمانے پر کی گئی ہے لہٰذا اس کے نتائج کو حتمی نہیں کہا جاسکتا، مانع حمل ادویات کے نقصانات اور اثرات کے بارے میں جاننے کے لیے مزید بڑے پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں