کراچی (13 جنوری 2026): دنیا میں تیزی سے بڑھتے جنگ وجدل کے باعث تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے ایسا ہوا تو ایک ملک محفوظ رہ سکتا ہے۔
اس وقت دنیا کے کئی ملک باہمی جنگ وجدل میں مصروف ہیں۔ صہیونی قابض ریاست اسرائیل کی غزہ پر بدمعاشیاں جاری ہیں۔ امریکا وینزویلا پر حملے کے بعد دنیا کو دھمکی دے رہا ہے، بالخصوص ایران اس کا ہدف ہے۔ گزشتہ سال پاک بھارت مختصر جنگ ہوچکی۔ خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک جنگ کی لپیٹ میں ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ چار سال سے جاری ہے۔
اس کے علاوہ بھی کئی ممالک تنازعات میں الجھ کر جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ ایسے میں ماہرین تیسری عالمی جنگ ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں جب کہ کئی ماہر علم نجوم بھی اس حوالے سے پیشگوئیاں کر رہے ہیں۔
تیسری عالمی جنگ کا مطلب دنیا کی تباہی ہے۔ تاہم اگر ایسا ہوا تب بھی اس دنیا میں ایک چھوٹا سا ملک ایسا بھی ہے، جو اس تباہی سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ یا اگر اسے نقصان بھی پہنچا تو وہ جزوی ہوگا۔
یہ ملک خطہ جنوبی ایشیا میں وادیوں کے درمیان گھرا ’’بھوٹان‘‘ ہے، جو رقبے میں ہے تو چھوٹا، مگر اس کی عوام کا شمار دنیا کی دولت مند عوام میں ہوتا ہے۔ یہ چھوٹا سا ملک کبھی بھی عالمی طاقتوں کا غلام نہیں رہا۔
اگر ممکنہ طور پر تیسری عالمی جنگ چھڑتی ہے تو جہاں دنیا میں تباہی پھیل سکتی ہے، وہیں بھوٹان واحد ملک ہوگا، جو کم سے کم متاثر ہوگا۔ اس کی وجہ اس کا محل وقو ع ہے۔
ہمالیہ کی گود میں بسے ’’بھوٹان‘‘ کو اس کے محل وقوع کے اعتبار سے ’’تھنڈر ڈریگن کی سر زمین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اونچے پہاڑوں اور گھنے جنگلات سے گھرا ہوا یہ ملک کسی بھی حملے کو ناممکن بنا دیتا ہے۔ 70 فیصد سے زیادہ زمین جنگل پر مشتمل ہے۔ یہ قدرتی دفاعی نظام ممکنہ طور پر بھوٹان کی طرف آنے والے ایٹمی تابکاری کے انتہائی مضر اثرات کو کم سے کمر کر دے گا۔
اس ملک کی سب سے انوکھی بات یہ ہے کہ یہاں GDP سے زیادہ Gross National Happiness (GNH) کو اہمیت دی جاتی ہے۔ 1970 کی دہائی میں بھوٹان کے چوتھے بادشاہ جگمے سنگے وانگچک نے یہ نظریہ دیا کہ ترقی کا مقصد صرف پیسہ نہیں بلکہ لوگوں کی خوشی، ماحول، ثقافت اور امن ہے، یہی وجہ ہے کہ بھوٹان دنیا کا پہلا کاربن فری ملک ہے۔
اس کے علاوہ ماہرین سیاسیات بھوٹان کے عالمی طاقتوں سے محفوظ رہنے کی وجہ اس کا سیاسی طور پر غیر جانبدار رہنا، الگ تھلگ اور خود کفیل ملک، کوئی فوجی اڈہ نہ ہونا اور تیل و گیس کے کوئی اسٹریٹجک وسائل کا نہ ہونا بتاتے ہیں، کیونکہ موجودہ دور میں یہی وجوہات عالمی تنازعات اور جنگوں کو جنم دے رہی ہیں۔


