زینب کا سوئم، پوسٹ مارٹم میں زیادتی کی تصدیق، ڈی این اے پروفائلنگ مکمل Zainab
The news is by your side.

Advertisement

زینب کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی کی تصدیق، ڈی این اے پروفائلنگ مکمل

قصور : سات سالہ زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے دوسری جانب فرانزک لیب میں ڈی این اے پروفائلنگ کا عمل بھی مکمل ہو گیا ہے،کل ننھی کلی کا سوئم بھی تھا۔

تفصیلات کے مطابق ننھی زینب کی لاش کی پوسٹ مارٹم کرنے والی ایم ایل او کی جانب سے مکمل طبی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس میں سفاک ملزمان کی کم سن بچی کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی تصدیق ہو گئی ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سات سالہ زینب کو زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا جب کہ زینب کی نازک کلائیوں کو بھی تیز دھار آلے سے کاٹنے کی کوشش کی گئی اور بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی نمایاں تھے۔

علاوہ ازیں فرانزک لیب سے ڈی این اے پروفائلنگ کی رپورٹ بھی پولیس کو موصول ہو گئی ہے جس کے بعد دس سے زائد زیر حراست ملزمان کے ساتھ ڈی این اے میچنگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب زیادتی اور قتل کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے نئے سربراہ محمد ادریس اور آئی جی پنجاب عارف نواز آج زینب کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی۔


 یہ بھی پڑھیں : قصور، زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی پری زینب سپرد خاک


اس موقع پر آئی جی پنجاب کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تھوڑا وقت لگے گا لیکن ہم ملزم تک ضرور پہنچ جائیں گے، جے آئی ٹی نے بھی اپنے کام کا آغاز کردیا ہے اور دیگر تمام ادارے بھی تعاون کر رہے ہیں، امید ہے کیس جلد نمٹالیں گے۔

آئی جی پنجاب عارف نواز نے مزید بتایا کہ زینب کے گھر والوں کے بیان اور اب تک کے حاصل شواہد کی روشنی میں کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن کی ڈی این اے میچنگ کا عمل جاری ہے اگر کسی کا ڈی این اے میچ کرجاتا ہے تو ملزم کے نام کا اعلان کردیں گے.

خیال رہے کہ گزشتہ روزمعصوم زینب کا سوئم تھا جس میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی جب کہ مختلف سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے نمائندوں نے بھی خصوصی طور پر سوئم میں شرکت کی اور سارا دن لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا.

یاد رہے کہ قصور میں 7 سالہ زینب 5 جنوری کی شام ٹیوشن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی تھی اور پانچ دن بعد اس کی لاش کچرا کنڈی سے ملی تھی جب کہ زینب کے والدین عمرے کے لیے گئے ہوئے تھے، بچی کی لاش ملنے پر قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں