پیر, ستمبر 7, 2026
اشتہار

پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری سے عوام کو بجلی کتنی سستی ملے گی؟

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : مشیر نجکاری محمد علی نے واضح کیا کہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کا عمل مکمل ہوتے ہی صارفین کو فوری طور پر بجلی سستی ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابق مشیر نجکاری محمد علی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام "آن مائی ریڈار” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کو خریدنے کے لیے 12 کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں سے تقریباً 10 کمپنیاں پری کوالیفائی ہو جائیں گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری سے عملی کارکردگی میں اضافہ ہوگا، بجلی کے ضیاع میں کمی آئے گی اور بلوں کی وصولی میں بہتری ممکن ہو سکے گی، جس سے بالآخر بجلی کے نرخوں کو نیچے لانے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے بتایا کہ بجلی کی تقسیم کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے حکومتی منصوبوں کے تحت آئی پی پیز معاہدوں پر دوبارہ بات چیت سمیت ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ کر نیا فریم ورک تیار کیا گیا ہے، تاکہ سرمایہ کاروں کو ایک پیشین گوئی کے قابل اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

محمد علی کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان کی تقسیم کار کمپنیاں مجموعی طور پر تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہیں، جو نجی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہت بڑا نیٹ ورک اور سرمایہ کاری کا ایک پرکشش موقع ہے۔

انھوں نے کہا نجکاری کے ساتھ ساتھ ایک مسابقتی مارکیٹ قائم کی جا رہی ہے جس سے نجی مالکان کو اپنی بجلی پیدا کر کے بیچنے کی اجازت مل سکے گی، جس سے اس شعبے میں مقابلے کا ماحول پیدا ہوگا۔

بجلی چوری کے حوالے سے مشیر نجکاری نے کہا کہ بجلی کی چوری، غیر ادا شدہ بلوں اور پرانے انفراسٹرکچر کا بوجھ باقاعدگی سے بل دینے والے صارفین پر پڑتا ہے۔ اس کے حل کے لیے نٹ ورک کی جدید کاری اور سمارٹ میٹرز کی تنصیب انتہائی ضروری ہے۔

محمد علی کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں کا تقریباً 85 فیصد حصہ (ٹیکسز کے علاوہ) پاور جنریشن (پیداوار) پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ ڈسکوئز کا منافع اس کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہے۔ اس لیے بجلی سستی کرنے کے لیے پیداواری شعبے میں مقابلہ بازی بڑھانا ہو گی۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نجکاری کا عمل مکمل ہوتے ہی صارفین کو فوری طور پر بجلی سستی ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، لیکن طویل المدت بنیادوں پر اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

انھوں نے بتایا جب کے الیکٹرک کی پرائیویٹائزیشن کی گئی تھی تو اس وقت اس کے لائن لاسز 40 سے 45 فیصد کے درمیان تھے جو اب کم ہو کر 15 فیصد پر آ چکے ہیں.

مشیر نجکاری کا کہنا تھا کہ جب پرائیویٹ سیکٹر اس شعبے میں آئے گا اور لاسز میں کمی واقع ہوگی تو اس سے انویسٹر اور عام صارف دونوں کا فائدہ ہوگا۔

اہم ترین

مزید خبریں