The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں بدترین لوڈ شیڈنگ، وزیر توانائی نے کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کو آج طلب کرلیا

کراچی : شہر قائد میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ مزید سنگین ہوگیا، مسئلے کے حل کیلئے وفاقی وزیر نےتمام اسٹیک ہولڈزر کو اسلام آباد میں طلب کر لیا، کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ نے معمولات زندگی درہم برہم کر رکھے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کا تنازعہ برقرار ہے، جس کے باعث کراچی میں بدترین لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ تاحال حل نہ ہوسکا، گھنٹوں کی اعلانیہ اورغیر اعلا نیہ لوڈ شیڈنگ سے معمولات زندگی شدیدمتاثر ہو رہے ہیں جبکہ پانی کی قلت بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔

لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر وزیر توانائی اویس لغاری نے کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کو آج طلب کر لیا ہے۔

وزیرتوانائی کی زیرصدارت اجلاس نمازجمعہ کےبعدہوگا، اجلاس میں چیئر مین نیپرا بھی شریک ہوں گے۔

خیال رہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے اسی ارب روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پرکے الیکٹرک کو گیس سپلائی کم کی ہوئی ہے اور گیس فراہمی کو واجبات کی ادائیگی سے مشروط کر رکھا ہے۔


مزید پڑھیں :  کے الیکٹرک اور سوئی گیس کا تنازعہ تاحال برقرار


ایس ایس جی سی کا کہنا تھا کےالیکٹرک نے اسی ارب کے واجبات ادا کرنےہیں، دس ماہ سے سابق واجبات ادا نہیں کیےگئے، کے ای ایس سی کا تین ماہ سے کرنٹ بل روکا ہوا ہے، ادائیگی نہیں کی ہے،سہولت کیلئے واجبات کے باوجودگیس دے رہے ہیں۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ گیس کی کمی کےباعث پیداوارمیں شارٹ فال ہے، 190 کی بجائے90ایم ایم سی ایف ڈی گیس مل رہی ہے، 50 میگا واٹ کےگیس پر چلنے والے پلانٹس بندہیں، ایک گھنٹے کی اضافی لوڈشیڈنگ کرنا پڑرہی ہے،زیادہ گیس ملے گی تو بجلی بھی زیادہ پیدا ہوگی۔

یاد رہے کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کو بجلی کے بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس کیخلاف قانونی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت دونوں فریقین کا گیس بحالی کا تنازعہ حل کرائے۔


مزید پڑھیں : کے الیکٹرک بجلی کی بحران کی ذمہ دار ہے، قانونی کارروائی کی جائے گی، نیپرا


نیپرا کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کو گزشتہ سال کی بہ نسبت 50 سے 60 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کم مل رہی ہے لیکن کورنگی اور بن قاسم کے گیس پلانٹس پر متبادل فیول کا نظام موجود ہونے کے باوجود انہیں استعمال نہیں کیا گیا، گیس نہ ملنے پر ان پلانٹس کو ہائی اسپیڈ ڈیزل یا متبادل ایندھن پر نہ چلانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں